حیرت دروازہ ہے یا گھر؟ یونانی اور صوفی تجسس
قدیم ایتھنز میں ایک نوجوان طالبِ علم، تھیئٹیٹس، ریاضی کی ایک الجھن کے سامنے پریشان کھڑا ہے۔ سامنے سقراط ہیں۔ لڑکا اپنی اسی حیرانی پر شرمندہ سا ہو رہا ہے۔ مگر سقراط مسکراتے ہیں اور اسے وہ بات کہتے ہیں جس کی اسے توقع نہیں تھی: “یہ احساس — یہی حیرت — فلسفی ہی کو زیب دیتا ہے۔ کیونکہ فلسفہ کہیں اور سے نہیں، صرف حیرت سے جنم لیتا ہے۔”
افلاطون یہ منظر مکالمہ تھیئٹیٹس میں لکھتے ہیں اور پھر ایک خوبصورت اساطیری بات جوڑ دیتے ہیں: حیرت کے دیوتا تھاؤماس کی بیٹی قوسِ قزح کی دیوی آئرس ہے۔ یعنی حیرانی خود وہ چیز ہے جو زمین اور آسمان کے درمیان پُل باندھتی ہے۔ تجسس وہ رنگین کمان ہے جو انسان کو ایک بلند تر حقیقت سے جوڑ دیتی ہے۔
تجسس کو تقریباً ہر فکری روایت نے سراہا ہے۔ مگر جہاں یہ پوچھا جائے کہ “تجسس آخر کس کام آتا ہے؟”، وہیں راستے الگ ہو جاتے ہیں۔ اور یہ جدائی اندازے سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ اس تحریر میں قدیم یونانی فلسفہ اور صوفی روایت آمنے سامنے آتے ہیں؛ دونوں حیرت کو مقدس مانتے ہیں، مگر دونوں اسے بالکل مخالف سمتوں میں برتتے ہیں۔
وہ حیرت جو دروازہ ہے
ارسطو اپنی کتاب مابعدالطبیعیات کے پہلے ہی جملے میں کہتے ہیں: “تمام انسان فطرتاً جاننا چاہتے ہیں۔” اور اس خواہشِ علم کی چنگاری جلانے والی چیز “تھاؤمازئین” ہے — یعنی حیرت، چونک جانا، کسی چیز کے سامنے یہ سوچ کر ساکت رہ جانا کہ یہ کیسے ممکن ہوا۔ تھاؤمازئین سادہ تجسس سے مختلف ہے۔ یہ الفاظ سے پہلے آنے والی ستائش ہے، وجود کے موجود ہونے کے سامنے گونگا رہ جانا ہے۔
سقراط کا سارا طریقہ اسی احساس پر کھڑا ہے۔ وہ ایتھنز کے چوکوں میں گھومتے ہیں اور لوگوں سے سوال کرتے ہیں۔ اپنے علم پر مطمئن آدمی کو وہ آہستہ آہستہ اس مقام تک لے آتے ہیں جہاں وہ خود کہہ اٹھتا ہے کہ دراصل مجھے یہ معلوم ہی نہیں تھا۔ بس وہی لمحہ، وہ بے چین کر دینے والا لمحہ، اصل سوچ کے آغاز کا لمحہ ہے۔ یونانی تصور میں حیرت ایک دروازہ ہے۔ ایسی دہلیز جو آپ کو راستے میں روکتی ہے اور ساتھ ہی گزر جانے کی دعوت بھی دیتی ہے۔ اس کے اندر ٹھہرا نہیں جا سکتا؛ اس میں سے گزر کر جواب کی طرف چلنا ہوتا ہے۔
اس زاویے سے دیکھیں تو یونانی کے لیے حیرت ایک آغاز ہے، منزل نہیں۔ حیرانی قیمتی ہے کیونکہ وہ حرکت دیتی ہے، سوال اٹھواتی ہے، تحقیق پر مجبور کرتی ہے۔ وہ چنگاری جیسی ہے۔ خوبصورت ہے، مگر اس کا اصل کام آگ جلانا ہے۔ خود چنگاری پر جم جانا یونانی ذہن کے نزدیک سوچ کا ادھورا رہ جانا ہے۔
اس نظر کے نتائج بہت بڑے نکلے۔ ایک بچے کا یہ پوچھنا کہ آسمان نیلا کیوں ہے، اور ایک سائنس دان کا روشنی کی طولِ موج ناپنا، دراصل ایک ہی تحریک کے دو سرے ہیں۔ یونانی روایت نے اس تحریک کو سنجیدگی سے لیا اور اسے ایک طریقۂ کار میں ڈھال دیا: مشاہدہ کرو، سوال کرو، ثابت کرو، پھر سوال کرو۔ طالیس کا ستاروں کو تکتے ہوئے گڑھے میں گر جانا اور ارشمیدس کا حوض میں سے نکل کر پکار اٹھنا، ایک ہی حیرت کے مختلف مناظر ہیں۔ یہاں تجسس محض ایک جذبہ نہیں رہتا، ایک ضابطہ بن جاتا ہے۔ اور وہی ضابطہ آگے چل کر پوری مغربی سائنس کی بنیاد بنتا ہے۔
پھر بھی یہ کہنا ضروری ہے کہ مغربی فکر نے حیرت کو ہمیشہ دروازہ نہیں سمجھا۔ صدیوں بعد وٹگنسٹائن اس حیرانی کو زندگی کا گہرا ترین سوال قرار دیتے ہیں کہ کچھ نہ ہونے کے بجائے کچھ موجود کیوں ہے۔ ہائیڈیگر اسے سب سے عام چیز کے غیرمعمولی ہونے کا نام دیتے ہیں۔ یہ آسمان کے نیلا ہونے پر نہیں، اس کے سرے سے ہونے پر حیرت ہے — وہی حیرت جس کے گرد غالب کا یہ مصرع گھومتا ہے کہ نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا، جہاں ہونا اور نہ ہونا ایک ہی سانس میں تُل جاتے ہیں۔ یہ جواب کی طرف دوڑتا ہوا تجسس نہیں؛ صوفی کی حیرت کی طرح، وجود کے سامنے ٹھہر جانے والی حیرت ہے۔ جسے دروازہ سمجھا گیا، وہ کبھی کبھی دہلیز نہیں، کھڑکی نکلتی ہے۔
وہ حیرت جو گھر ہے
صوفی روایت میں حیرت بالکل دوسری چیز ہے۔ راستے کا آغاز نہیں، شاید انجام؛ بلکہ شاید انجام سے بھی آگے۔ صوفی سفر میں “مقامات” ہوتے ہیں — وہ پڑاؤ جن سے روح گزرتی ہے۔ توبہ آتی ہے، صبر آتا ہے، عشق آتا ہے، وجد آتا ہے۔ مگر حیرت ان سب کے اوپر، سب سے بلند جگہ پر بیٹھتی ہے۔ وہ ابتدا کی چنگاری نہیں، وہ آخری بلندی ہے جہاں تک پہنچا جا سکتا ہے۔
مولانا جلال الدین رومی جب اس کیفیت کو بیان کرنا چاہتے ہیں تو الفاظ کو ناکافی پاتے ہیں اور حیرت کا لفظ بار بار دہراتے چلے جاتے ہیں۔ یہ تکرار زبان کی لغزش نہیں؛ یہ ایک دیانت دار اعتراف ہے کہ لفظ اپنے ذمے کا معنی اٹھانے سے قاصر ہے۔ مثنوی برصغیر کی خانقاہوں میں صدیوں سے پڑھی اور سنی جاتی رہی ہے، اور اسی راستے سے حیرت اردو شعر کی لغت میں کوئی نقص بن کر نہیں، ایک مرتبہ بن کر داخل ہوئی۔ حیرت کے لمحے میں انسان یہ پوچھنا چھوڑ دیتا ہے کہ میں کون ہوں؛ کیونکہ اس لمحے پوچھنے والا اور جواب دونوں پگھل جاتے ہیں۔ دونوں ایک ہی چیز میں مل جاتے ہیں۔ اور صوفی روایت کے مطابق اگر اس حال کو آپ آسانی سے لفظوں میں بیان کر سکتے ہیں، تو وہ حال ابھی حقیقتاً گزرا ہی نہیں۔
اس رویّے کی سب سے نمایاں مثال شاید امام غزالی ہیں۔ بغداد کے سب سے معتبر مدرسے میں سیکڑوں طالبِ علموں کو پڑھانے والا، اپنے زمانے کا سب سے روشن استدلال کرنے والا آدمی، چھتیس برس کی عمر میں ایک گہرے روحانی بحران سے گزرتا ہے۔ ان کے اپنے بیان کے مطابق ایک دن ان کی زبان بند ہو جاتی ہے اور وہ درس دینے کے قابل نہیں رہتے؛ کرسی، شہرت اور آسودگی چھوڑ کر ایک فقیر درویش کی صورت میں سفر پر نکل جاتے ہیں۔ جس نتیجے تک وہ پہنچے وہ یہ تھا کہ سب سے یقینی علم استدلال سے نہیں، “چکھنے” سے آتا ہے۔ شہد کا مزہ تعریف میں نہیں سمایا جا سکتا؛ اسے چکھنا پڑتا ہے۔ ان کے نزدیک خدا کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا — کوئی ایسا دعویٰ نہیں جسے ثابت کیا جائے، بلکہ ایک ایسی حقیقت جسے چکھا جائے۔
اس تقابل سے ایک بات کھلتی ہے۔ صوفی حیرت جواب کی غیرموجودگی کو نقصان نہیں، وصال سمجھ کر جیتی ہے۔ ایک آدمی برسوں اپنے سوالوں کے پیچھے بھاگتا ہے، ہر جواب کے پیچھے ایک نیا سوال پاتا ہے، یہاں تک کہ ایک دن ایسا مقام آتا ہے جہاں پوچھنا خود اس سوال کے اندر گھلنے لگتا ہے جو پوچھا گیا تھا۔ یونانی کے لیے یہ بند گلی ہے؛ صوفی کے لیے یہی منزل ہے۔ دونوں روایتیں ایک ہی کھائی کے کنارے کھڑی ہیں، مگر ایک پیچھے ہٹ کر پُل بنانے لگتی ہے اور دوسری بازو کھول کر خود کو اس خلا کے حوالے کر دیتی ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ دونوں اس حرکت سے ایک طرح کا سکون کشید کر لیتی ہیں — ایک سمجھ لینے کا سکون، دوسری سپرد ہو جانے کا۔
دو روایتوں کو ساتھ رکھنے سے ایک سوال ابھرتا ہے: ایک ہی احساس دو اتنی مخالف جگہوں پر کیسے پہنچ جاتا ہے؟ جواب عقل اور زبان پر کیے گئے بھروسے میں چھپا ہے۔ یونانی فکر “لوگوس” پر، یعنی عقل اور کلام پر اعتماد کرتی ہے۔ تجسس ایک گفتگو شروع کرتا ہے؛ فلسفہ حیرت سے پیدا ہونے والی منطق ہے۔ صوفی روایت کا ہدف اس کے برعکس زبان اور عقل کی حد سے آگے نکلنا ہے۔ اس کے نزدیک تجسس ٹھیک وہیں معنی پاتا ہے جہاں لفظ ختم ہوتا ہے۔ یہی فرق اقبال کے ہاں عقل اور عشق کی صورت اختیار کرتا ہے — عشق بے خطر نمرود کی آگ میں کود پڑتا ہے اور عقل ابھی لبِ بام کھڑی تماشا دیکھتی رہ جاتی ہے۔ یہ کوئی من مانی ثقافتی ترجیح نہیں۔ دونوں روایتوں کے درمیان کا فاصلہ دراصل اس بنیادی عقیدے کا فرق ہے کہ عقل خدا کے کتنا قریب جا سکتی ہے۔ یونانی کے لیے الوہی چیز عقل سے گرفت میں آ سکتی ہے؛ صوفی کے لیے عقل وہ سرحد ہے جسے راستے میں کسی مقام پر پیچھے چھوڑنا پڑتا ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ نہ جاننے کو دانائی میں بدلنے والا صرف مشرق نہیں تھا۔ قرونِ وسطیٰ کے مغرب کے پاس بھی اس کے لیے ایک نام تھا: “عالمانہ جہالت” (docta ignorantia)۔ جرمن مفکر نکولاؤس کوزانوس اسے ایک خوبصورت ہندسی تمثیل سے سمجھاتے ہیں: دائرے کے اندر کھینچا گیا کثیرالاضلاع۔ آپ اس کے اضلاع جتنے بھی بڑھاتے جائیں، وہ دائرے کے قریب تر ہوتا جائے گا مگر کبھی دائرہ نہیں بنے گا۔ ہماری عقل وہی کثیرالاضلاع ہے؛ حقیقت وہ دائرہ ہے۔ سب سے بڑی دانائی اسی فاصلے کو دیانت داری سے تسلیم کر لینا ہے۔
متعلقہ کتابیں

حیرت، عقل سے آگے
نوائے رومی
مولانا جلال الدین رومی
مثنوی میں حیرت عقل کی آخری منزل ہے اور دل کے کھلنے کا نقطہ — وہی تصور جس پر یہ مضمون قائم ہے۔
مزید پڑھیں
مغربی فکر کی ابتدا
مغربی فلسفے
ڈاکٹر سعادت سعید
یونانی فکر کی بنیادوں کا اردو تعارف — وہی ابتدائی یونانی فلسفہ جس سے تعجب کا تصور پھوٹا۔
مزید پڑھیں
رومی کی رہنمائی میں
جاوید نامہ
محمد اقبال
اقبال مولانا روم کی معیت میں افلاک کا سفر کرتے ہیں — روح کے مبدا کی طرف وہی سفر جو پلاٹینس بیان کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
جہاں الفاظ ختم ہوتے ہیں
فلسفہ وحدت الوجود
ڈاکٹر وحید عشرت
وہ نقطہ جہاں عقل اور زبان کی حد ختم ہوتی ہے — وٹگنسٹائن کے آخری جملے سے گہری قربت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیںبطور ایمیزون ایسوسی ایٹ، اہل خریداریوں سے آمدنی حاصل کرتا ہوں۔
© 2026 eastwestmindset — جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ اس سائٹ کی تحریروں کے استعمال کے لیے اجازت درکار ہے۔