شکر گزاری کے دو راستے: ماوری ہاؤ اور سینیکا کی رواقیت
نیوزی لینڈ کے مقامی باشندوں، ماوری، کی ایک خوبصورت کہاوت ہے: “میری کامیابی صرف میری اپنی نہیں، وہ بہت سوں کی مہارت کا مشترکہ حاصل ہے۔” (Ēhara tāku toa i te toa takitahi, engari he toa takitini.)
یہ ایک جملہ اپنے اندر شکر گزاری کا پورا تصور سموئے ہوئے ہے۔ کیونکہ اس قوم کے نزدیک شکر ایسا جذبہ نہیں جو ایک فرد کے اندر شروع ہو کر وہیں ختم ہو جائے۔ یہ انسانوں، اشیاء، آبا و اجداد اور فطرت کے درمیان بہتی ہوئی ایک نادیدہ توانائی کا نام ہے۔
انہی صدیوں میں، براعظم کے دوسرے سرے پر، ایک رومی فلسفی اس کے بالکل الٹ بات کہہ رہا تھا: شکر گزاری سراسر باطنی عمل ہے، ایسا عمل جو فرد کی اپنی روح کو نکھارتا ہے۔
شکر گزاری پہلی نظر میں ایک سادہ سا کلیشہ لگتی ہے: شکر کرو، خوش رہو، آگے بڑھو۔ لیکن جڑوں تک اتریں تو دو بالکل مختلف دنیائیں سامنے آتی ہیں۔ اس تحریر میں آؤٹیاروا (نیوزی لینڈ) کی ماوری روایت اور قدیم روم کے تیز ترین قلموں میں سے ایک، سینیکا، آمنے سامنے آتے ہیں۔
تحفے کے اندر کی روح
ماوری زبان شکر گزاری کو دو تصورات میں پروتی ہے: “اروہا” (aroha) اور “ہاؤ” (hau)۔ لفظ اروہا کے اندر ایک چھوٹا سا نقشہ چھپا ہے۔ “ارو” کے معنی ہیں اپنی توجہ کسی کی طرف موڑنا، اور “ہا” کے معنی ہیں زندگی کی سانس۔ یعنی اروہا کا جوہر یہ ہے کہ آدمی اپنی زندگی کی سانس کسی دوسرے کی جانب موڑ دے۔ یہ “شکریہ” کے لفظ سے کہیں بڑی چیز ہے؛ یہ خود تعلق کا نام ہے۔
ہاؤ کہیں زیادہ پراسرار ہے۔ ماوری تصورِ کائنات میں یہ وہ روح ہے جو ایک تحفہ اپنے اندر لیے پھرتی ہے۔ جب کوئی ماوری کاریگر کوئی چیز بناتا ہے اور وہ چیز ہاتھ بدلتی ہے، تو اس روایت کے اپنے بیان کے مطابق کاریگر کا ہاؤ بھی اس کے ساتھ چلا جاتا ہے۔ اگر لینے والا اس روح کو گردش میں واپس نہ ڈالے، کسی اور نیکی سے جواب نہ دے، تو ایک توازن بگڑ جاتا ہے۔ اسی روایت کے مطابق اس بگاڑ کا نتیجہ پیچھے رہ جانے والے کے لیے سنگین نقصان، حتیٰ کہ موت بھی ہو سکتا ہے۔
فرانسیسی ماہرِ عمرانیات مارسل ماس کا 1925 میں جب اس تصور سے واسطہ پڑا تو مغرب ہل گیا: تو گویا کوئی تحفہ حقیقتاً “مفت” نہیں ہوتا۔ دی ہوئی چیز کے اندر ایک قوت ہوتی ہے جو واپس لوٹنا چاہتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بندھن کا سراغ ایک بالکل الگ زبان میں بھی ملتا ہے۔ عبرانی میں شکر گزار ہونے کا محاورہ “اسیر تودہ” (asir todah) ہے — لفظ بہ لفظ “شکر کا قیدی”۔ “اسیر” کے معنی قیدی کے ہیں؛ اس کی جڑ باندھنے اور گرفتار کرنے کے فعل تک جاتی ہے۔ یعنی عبرانی نے بھی ٹھیک ماوری ہی کی طرح بھانپ لیا: جب تم کوئی احسان لیتے ہو تو ایک نادیدہ ڈور تمہیں اس سے باندھ دیتی ہے۔ اردو بھی یہی بات اپنے محاورے میں کہتی ہے — احسان اٹھایا نہیں جاتا، اس کے بوجھ تلے دبا جاتا ہے۔ ہاؤ کا ایک دور کا رشتہ دار بحیرۂ روم کے دوسرے کنارے پر وہی حقیقت دوسرے لفظوں میں دہرا رہا ہے۔
یہ سمجھ ماوری معاشرے میں بہت ٹھوس شکل اختیار کر لیتی ہے۔ سب سے قیمتی اشیاء کو “تاؤنگا” (taonga) کہا جاتا ہے: نسل در نسل منتقل ہونے والے وہ خزانے جنہیں یہ روایت اپنے آبا و اجداد کی یاد اور موجودگی کا حامل سمجھتی ہے۔ تاؤنگا محض ایک شے نہیں، ایک زندہ رشتہ ہے، ایک نسب کا حافظہ۔ جب سنگِ یشب کا کوئی ٹکڑا یا ہاتھ سے بُنی ہوئی کوئی چادر ہاتھ بدلتی ہے، تو صرف ایک چیز نہیں، رشتوں کا پورا جال حرکت کرتا ہے۔ اسی لیے ماوری دنیا میں دینا اور لینا کبھی دو افراد کے بیچ بند لین دین نہیں ہوتا؛ وہ ہمیشہ ایک وسیع تر برادری تک، ماضی اور مستقبل تک پھیلتا ہے۔ ایک تحفہ اُس دریا کی چھوٹی سی لہر ہے جو وقت میں آگے بھی بہتا ہے اور پیچھے بھی۔
اس معنی میں ہاؤ کا خیال انسانی رشتوں کو ایک بہی کھاتے سے نکال کر ایک زندہ ماحولیاتی نظام میں بدل دیتا ہے۔ کوئی احسان لے کر تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ “شکریہ ادا کر دیا، بات ختم”۔ کیونکہ جو تم نے لیا ہے، اس کے اندر دینے والے کی توانائی اب بھی سانس لے رہی ہے۔ وہ توانائی لوٹنا چاہتی ہے — جیسے دریا سمندر کی طرف لوٹنا چاہتا ہے۔ یہاں شکر گزاری کوئی رکھ رکھاؤ نہیں، کائنات کے چلن کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ انسان کو ایک بہت خاص ذمہ داری سونپ دیتی ہے: تم صرف لیا ہوا لوٹاتے نہیں، اس نیکی کو کسی تیسرے تک بھی پہنچاتے ہو۔ یوں نیکی رکتی نہیں، بہتی ہے؛ ہر ہاتھ اسے کچھ اور بڑا کر دیتا ہے۔
نیکی کی انفرادیت
قدیم روم میں سینیکا اسی جذبے تک بالکل مخالف سمت سے پہنچا۔ سات کتابوں پر مشتمل اس کی تصنیف “دے بینیفیکیس” (De Beneficiis)، یعنی “احسانات کے بارے میں”، قدیم زمانے کی وہ سب سے طویل فلسفیانہ تحریر ہے جو شکر گزاری کے لیے وقف ہے۔ سینیکا کے نزدیک ناشکری کوئی معمولی بداخلاقی نہیں تھی۔ وہ تقریباً تمام برائیوں کی ماں تھی، کیونکہ وہ نیکی کی زنجیر کو توڑ دیتی ہے۔ اردو نے اسی جرم کو ایک ہی لفظ میں سمو رکھا ہے: نمک حرامی — جس کا نمک کھایا، اسی کا حق بھلا دینا۔
لیکن اصل چونکا دینے والا خیال یہ ہے: سینیکا کے مطابق شکر کا اصل فائدہ شکر کرنے والے کو پہنچتا ہے۔ تم دوسرے کو انعام دینے کے لیے نہیں، اپنی روح کو نکھارنے کے لیے شکر کرتے ہو۔ یہ انتہائی انفرادیت پسند اخلاقیات ہے — مگر ساتھ ہی آزاد کر دینے والی بھی۔ کیونکہ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے: جس نے تم پر احسان کیا وہ مر بھی جائے، تمہیں چھوڑ بھی جائے، تب بھی شکر گزاری تمہارے اندر کسی چیز کو سیراب کرتی رہتی ہے۔ سینیکا کے الفاظ میں، احسان وہ مادی چیز نہیں جو دی گئی، بلکہ وہ نیت ہے جس نے اسے جنم دیا۔
رواقیوں کے لیے یہ نظر کوئی مجرد نظریہ نہیں، ایک روزمرہ مشق تھی۔ شہنشاہ مارکس اوریلیس کی کتاب “مراقبات” (Meditations) کا پہلا حصہ یاد کیجیے۔ وہ شروع سے آخر تک ان لوگوں کی احسان مندی کی فہرست ہے جو اس کی زندگی میں تھے۔ ماں سے سیکھی ہوئی سادگی، استادوں سے ملا ہوا صبر، دوستوں کے قائم کیے ہوئے نمونے — ایک ایک کا شکریہ۔ یعنی روم کا سب سے طاقتور آدمی اپنا دن اپنے قرض گنتے ہوئے شروع کرتا تھا۔ رواقیوں کے نزدیک شکر گزاری کبھی کبھار محسوس ہونے والا جذبہ نہیں تھی، بلکہ ہر صبح اور ہر شام دہرائی جانے والی ایک ذہنی ورزش — جو کچھ پاس ہے، اسے دیکھ لینے کا نظم۔ جدید “شکر گزاری کی ڈائری” کا رجحان، بے خبری میں، دو ہزار سال پرانی اسی عادت کو دوبارہ دریافت کر رہا ہے۔
مگر یہاں ایک باریک فرق ہے۔ سینیکا نے شکر کو باطن کی طرف موڑا ضرور، لیکن اسے کبھی بے مخاطب نہیں چھوڑا۔ اس کے نزدیک وہ شکر جو کسی کی طرف متوجہ نہ ہو، شکر کہلانے کا حق دار ہی نہیں۔ جدید شکر گزاری کی ڈائری اکثر یہی مخاطب کھو دیتی ہے۔ “اپنی صحت پر شکر گزار ہوں”، “بارش نہ ہونے پر شکر گزار ہوں” کہتے ہوئے ہم دراصل احسان مندی سے زیادہ ایک طمانیت بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسی شکر گزاری جو کسی کی مقروض نہ ہو، سینیکا کی نظر میں ادھوری شکر گزاری ہے۔
دونوں روایتوں کو ساتھ رکھ کر دیکھوں تو میرے اندر یہ سوال جاگتا ہے: ایسا کیوں ہے کہ اتنے متضاد دو راستے آخر میں ایک ہی مقام پر جا نکلتے ہیں؟ ماوری تو “میں” اور “تم” کی تفریق سے آغاز ہی نہیں کرتے۔ برادری، آبا و اجداد اور فطرت ایک ہی جال ہیں — “واناؤنگاتانگا” (whanaungatanga)، وہ بندھن جو ہمیں ایک ساتھ تھامے رکھتا ہے۔
رواقیت اس کے برعکس فرد کے اندرونی نظم سے شروع ہوتی ہے: باہر کی دنیا قابو میں نہیں آتی، مگر اندر کی دنیا سنواری جا سکتی ہے۔ ایک شکر گزاری کو باہر کی طرف، ایک کائناتی گردش کی طرف کھول دیتی ہے۔ دوسری اسے اندر، روح کی کارگاہ میں بند کر دیتی ہے۔ لیکن آخر میں دونوں ایک ہی بات کہتی ہیں: شکر گزاری زرخیز ہے، وہ تمہیں بڑا کرتی ہے۔
دونوں شکروں کی حکمت
ماوری نظر کا روشن پہلو یہ ہے کہ وہ شکر گزاری کو ایک باطنی جذبے سے نکال کر ایک معروضی قوت بنا دیتی ہے۔ ہاؤ انسان کو باندھنے والے کسی نادیدہ طبیعی قانون کی طرح کام کرتا ہے۔ جو احسان تم نے لیا، وہ لوٹنا چاہتا ہے، کیونکہ اس کے اندر دینے والے کی توانائی ہے۔ یہ خیال انسان کو ایک الگ تھلگ فرد نہیں، ایک عظیم لین دین کا گرہ بنا دیتا ہے۔ کوئی حقیقتاً تنہا نہیں؛ ہر شخص کسی نہ کسی کا ہاؤ اٹھائے پھرتا ہے اور کسی نہ کسی کو سونپ دیتا ہے۔
سینیکا کی نظر کا متاثر کن پہلو یہ ہے کہ وہ شکر گزاری کو بیرونی حالات سے آزاد کر دیتی ہے۔ شکر کرنے کے لیے جواب کا انتظار ضروری نہیں، کیونکہ شکر تمہیں پہلے ہی بدل دیتا ہے۔ یہ ایک نازک جذبے کو ٹھوس زمین پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اگر کوئی تمہارا شکریہ نہ دیکھے، کوئی جواب نہ دے، تب بھی شکر گزار ہونے میں تمہارا اپنا فائدہ ہے۔
ایک نظر بتاتی ہے کہ شکر گزاری ہمیں دوسروں سے جوڑتی ہے، دوسری بتاتی ہے کہ وہ ہمیں اپنے آپ سے صلح کرا دیتی ہے۔ جو انسان دونوں کو ایک ساتھ تھام سکے، وہ زیادہ جڑا ہوا بھی ہوتا ہے اور زیادہ آزاد بھی۔ مشکل بھی شاید یہیں ہے، کیونکہ ہم عموماً ایک وقت میں ان دونوں میں سے کوئی ایک ہی چن پاتے ہیں۔
شاید سینیکا نے سات ضخیم کتابوں میں جو بات کہی، وہ دراصل ہاؤ کے لوٹنا چاہنے کی وہی سادہ سچائی تھی۔ سینیکا نے بس اسے کائناتی نہیں، انفرادی سمجھا۔ اور شکر گزاری، تم جس دروازے سے بھی داخل ہو، تمہیں ہمیشہ اسی دولت تک پہنچاتی ہے جو دینے سے بڑھتی ہے۔
متعلقہ کتابیں

احسان، شکر اور خدمت
زاویہ
اشفاق احمد
سینیکا کی طرح اشفاق احمد بھی یہی پوچھتے ہیں کہ دینے اور لینے کا اصل ادب کیا ہے۔ زاویہ کے مکالمے شکر کو حساب کتاب نہیں بلکہ دل کی عادت بنا دیتے ہیں، جو اس مضمون کا مرکزی نکتہ ہے۔
مزید پڑھیں
اپنے آپ کا محاسبہ
الکھ نگری
ممتاز مفتی
مارکس اوریلیس کی طرح ممتاز مفتی بھی اپنی ذات کو بے رحمی سے کھنگالتے ہیں۔ الکھ نگری وہی اندر کی طرف مڑی ہوئی نظر ہے جس سے، سٹوئک روایت کی طرح، شکر جنم لیتا ہے۔
مزید پڑھیں
محبت، قرض اور حرام
راجہ گدھ
بانو قدسیہ
راجہ گدھ محبت کو ایک اخلاقی قرض کی صورت میں دیکھتا ہے جو چکانا پڑتا ہے۔ ماوری تصورِ ہاؤ کی طرح یہاں بھی ہر لیا ہوا واپس لوٹانا ہے، ورنہ اس کا خمیازہ آنے والی نسلیں بھگتتی ہیں۔
مزید پڑھیں
تاریخ کس نے لکھی
تاریخ اور نصابی کتب
ڈاکٹر مبارک علی
لنڈا تہیوائی اسمتھ کی طرح مبارک علی بھی پوچھتے ہیں کہ علم کس کے مفاد میں مرتب ہوتا ہے۔ یہ کتاب دکھاتی ہے کہ نصاب کیسے مقامی روایت کو مٹا کر حاکم کی کہانی کو سچ بنا دیتا ہے۔
مزید پڑھیںبطور ایمیزون ایسوسی ایٹ، اہل خریداریوں سے آمدنی حاصل کرتا ہوں۔
© 2026 eastwestmindset — جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ اس سائٹ کی تحریروں کے استعمال کے لیے اجازت درکار ہے۔