دروازے پر کھڑا اجنبی: یونانی زینیا اور سٹیپی کی مہمان نوازی
ایک ایسی جنگ کا تصور کیجیے جو دس برس چلے، ایک پورا شہر مٹا دے، صدیوں تک داستانوں میں زندہ رہے — اور شروع صرف ایک اصول ٹوٹنے سے ہو۔ جنگِ ٹرائے بالکل اسی طرح شروع ہوئی۔
شہزادہ پیرس، سپارٹا کے بادشاہ مینیلاؤس کے گھر میں مہمان تھا۔ بادشاہ نے اس کے لیے دسترخوان بچھایا، چھت دی، بھروسہ دیا۔ پیرس بدلے میں میزبان کی بیوی ہیلن کو ساتھ لے کر نکل گیا۔ یونانیوں کے نزدیک یہ کوئی عام اغوا نہیں تھا۔ یہ ایک مقدس قانون کی خلاف ورزی تھی؛
زیوس کے مہمان نوازی کے قانون کی۔ اور یہ خلاف ورزی اتنی بھاری تھی کہ ایک پوری تہذیب کو جنگ میں دھکیل دے۔ اس قانون کا مطلب یہ تھا کہ میزبان کے مال، خاندان اور گھر کے نظام کا مکمل احترام کیا جائے، اور اس کے بدلے مہمان کو بغیر کسی قیمت کے گھر میں جگہ ملے۔
مہمان نوازی پہلی نظر میں محض آدابِ معاشرت کا ایک اصول لگتی ہے۔ لیکن ذرا کھرچیے تو نیچے سے پورے سماج کا دنیا کو دیکھنے کا زاویہ نکل آتا ہے۔ اس تحریر میں قدیم یونان کی زینیا (xenia — ξενία) روایت اور ترک-منگول سٹیپی کی مہمان روایت آمنے سامنے آتی ہیں۔
سٹیپی میں کھلنے والا ہر دروازہ
میدانوں میں مہمان برکت لے کر آتا ہے۔ قازق کہاوت اسے صاف کہتی ہے: «قوناق کیلدی، ئیرس کیلدی» (Qonaq keldi, yrys keldi) — مہمان آیا، برکت آئی۔ اس عقیدے کے نیچے ایک نہایت عملی حقیقت دبی ہوئی ہے۔ لامتناہی چراگاہی میدانوں میں، مہینوں لمبی نقل مکانی کے دوران، راستہ بھولنے والے ہر مسافر کو کسی نہ کسی خیمے میں پناہ لینی ہی پڑتی تھی۔ آج جو پناہ کا منتظر ہے، کل اسی کے دروازے پر کوئی اور ہاتھ ہوگا۔
منگول روایت میں یورت (خیمے) کے اندر داخل ہونے والے سے یہ پوچھنا بھی بدتمیزی تھی کہ وہ کون ہے۔ پہلے دسترخوان بچھتا تھا، بات بعد میں ہوتی تھی۔ یہی ترتیب صدیوں بعد برصغیر کی درگاہوں کے لنگر میں بھی چلتی رہی، جہاں کھانا پہلے سامنے آتا ہے اور نام، ذات یا مسلک کا سوال کبھی آتا ہی نہیں۔ دسترخوان پر روٹی بیچ میں رکھی جاتی تھی مگر کبھی الٹی نہیں رکھی جاتی تھی، کیونکہ اسے برکت کے الٹ جانے کے برابر سمجھا جاتا تھا۔ بھیڑ کا سر سب سے معزز مہمان کے آگے رکھا جاتا تھا؛ حتیٰ کہ کون سا حصہ کس کے سامنے جائے گا، یہ بھی دسترخوان پر بیٹھنے کی جگہ سے طے ہوتا تھا۔ ان میں سے کوئی چیز خالی پروٹوکول نہیں تھی۔ یہ شناخت، عزت اور اعتماد کی وہ زبان ہے جو دسترخوان پر بولی جاتی ہے۔
یہ روایت میدانوں سے نکل کر بستیوں تک آئی اور گہرا نشان چھوڑ گئی۔ مشرقی روایت میں مہمان کو «خدا کا مہمان» کہا جاتا ہے، یعنی وہ بھیجا ہوا ہے اور اسے لوٹایا نہیں جا سکتا۔ مہمان کو کھلانا کسی گھرانے کی عزت کا پیمانہ ہے۔
یہ روایت دراصل ایک غیر تحریری بیمہ پالیسی ہے۔ میدانوں میں نہ قانون تھا، نہ پولیس، نہ کوئی پناہ گاہ۔ لوگوں نے یہ خلا کسی آدابِ نشست سے نہیں، بقا کے ایک مشترکہ معاہدے سے بھرا۔ «آج میں تجھے کھلاؤں گا، کل میری باری آئی تو کوئی مجھے کھلائے گا۔» جو چیز اوپر سے شفقت دکھائی دیتی ہے، اس کے نیچے ایک خاموش حساب کھڑا ہے جو سب کو گرنے نہیں دیتا۔ پشتون ضابطے کی ملمستیا میں یہی منطق آج تک زندہ ہے، جہاں مہمان کی خدمت فرض ہے اور پناہ مانگنے والے کو پناہ دینا اس وقت بھی لازم ہے جب وہ آپ کا اپنا دشمن ہو۔ مگر یہ حساب وقت کے ساتھ سرد گنتی نہیں رہا۔ یہ دلی سخاوت میں، ایک طرزِ زندگی میں، بلکہ ایک سماجی معاہدے میں بدل گیا۔
دروازے پر کھڑا اجنبی کوئی دیوتا بھی ہو سکتا ہے
قدیم یونان میں اجنبی کو لوٹا دینا سیدھا سیدھا دیوتا کو انکار کرنے کے برابر تھا۔ زیوس کے القاب میں سے ایک «زینیوس» تھا، یعنی مہمانوں کا محافظ۔ یہ کوئی سجاوٹی لقب نہیں تھا۔ یونانی دیومالا میں دیوتا اکثر بھیس بدل کر ایک مسافر کی صورت انسانوں کے دروازے پر آ جاتے تھے۔ دہلیز پر کھڑا پھٹے حال فقیر بعید نہیں کہ آزمانے آیا ہوا کوئی دیوتا ہو۔
اس دوغلے پن کا سراغ خود لفظ میں محفوظ ہے۔ یونانی لفظ «زینوس» (xenos) کے معنی «اجنبی» بھی ہیں اور «مہمان» بھی۔ گویا زبان نے دروازے پر کھڑے نامعلوم کے دونوں چہرے ایک ہی لفظ میں سمو دیے۔ اسی جڑ سے «زینیا» (مہمان نوازی) بھی نکلتی ہے اور آج کا «زینوفوبیا» (اجنبی سے خوف) بھی۔ یعنی یونانی نے خوف اور مہمان نوازی کو ایک ہی جڑ سے باندھ دیا: اجنبی خطرہ بھی ہو سکتا ہے اور برکت والا مہمان بھی۔ زینیا اسی خوف کو ایک رسم کے ذریعے سدھانے کا فن تھی۔
اوڈیسی انہی امتحانات سے بھری ہوئی ہے۔ غریب چرواہا یومائیوس بھیس بدلے ہوئے اوڈیسیئس کے لیے اپنا بستر کھول دیتا ہے اور آخر میں اس کا صلہ پاتا ہے۔ پینیلوپی کے وہ خواستگار جو گھر پر قابض ہو جاتے ہیں، مہمان نوازی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور سب کے سب مارے جاتے ہیں۔ زینیا کوئی رواج نہیں، ایک معاہدہ تھی: مہمان کو کھلاؤ، تحفہ دو، اور کھانا ختم ہونے سے پہلے یہ مت پوچھو کہ وہ کون ہے۔ بدلے میں مہمان بھی اپنی حد پہچانتا ہے اور اپنی باری آنے پر خود میزبان بنتا ہے۔
اس عقیدے کا سب سے دل کو چھو لینے والا بیان اوڈیسی کے باہر سے آتا ہے۔ اووِڈ کے بیان کردہ باؤسس اور فِلیمون فریجیا کے ایک غریب بوڑھے میاں بیوی ہیں۔ بھیس بدل کر دروازہ دروازہ پھرتے زیوس اور ہرمیس کو پورا قصبہ لوٹا دیتا ہے؛ صرف یہ دو بوڑھے اپنا آخری نوالہ بانٹ دیتے ہیں۔ جب انہیں نظر آتا ہے کہ دسترخوان پر رکھا کوزہ کسی طرح خالی ہی نہیں ہو رہا، تو وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ان کے مہمان عام مسافر نہیں۔ ان کا انعام یہ ٹھہرتا ہے کہ قصبے کو بہا لے جانے والے سیلاب سے بچ جائیں اور موت میں بھی جدا نہ ہوں۔ دو درخت پہلو بہ پہلو ہرے ہوتے ہیں۔ اس کہانی میں مہمان نوازی ایک آسمانی امتحان ہے اور ناشکری ایک آفت۔
اس رشتے کا سب سے خوبصورت پہلو یہ تھا کہ وہ ایک رات میں ختم نہیں ہوتا تھا۔ میزبان اور مہمان اکثر تحائف کا تبادلہ کرتے تھے اور یہ بندھن نسلوں تک چلتا تھا۔ ایک یونانی کسی دور کے شہر میں پہنچ کر اُس خاندان کے پوتے کو ڈھونڈ سکتا تھا جسے کبھی اس کے اپنے دادا نے ٹھہرایا تھا، اور وہ دروازہ اس کے لیے کھل جاتا تھا۔ یوں زینیا نے، ایسی دنیا میں جہاں ابھی ریاستیں اور سفیر موجود نہیں تھے، ایک طرح کے سفارتی جال کا کام کیا۔ افراد کے درمیان بندھا یہ مقدس رشتہ وہ ان دیکھے دھاگے تھے جو شہروں اور قوموں کو ایک دوسرے سے باندھتے تھے۔ کسی اجنبی کو ٹھہرانا محض ایک رات کی نیکی نہیں تھا، مستقبل کی طرف پھینکا گیا دوستی کا پل تھا۔
تو پھر دونوں سماج ایک ہی جگہ پہنچے، یعنی «اجنبی کی حفاظت کرو» تک، مگر بالکل الگ دروازوں سے کیوں؟ جواب جغرافیے میں ہے۔ میدانوں میں کوئی ضمانت نہیں تھی، اس لیے مجبوری مقدس بن گئی۔ یونانی شہری ریاست کے اندر قانون موجود تھا، مگر راستے پر دیوتا دیکھ رہے تھے، اس لیے نگرانی اوپر سے آئی۔ ایک بے بسی سے اس اخلاق تک پہنچا، دوسرا اولمپی نگاہ سے۔
پرانے سماجوں میں باہمی انحصار اختیاری نہیں تھا۔ یہ کوئی مجرد یکجہتی نہیں۔ یہ وہ نظام ہے جو صدیوں تک اصلی برفانی طوفانوں میں اور اصلی بھوک میں آزمایا گیا، اور اس لیے قائم رہا کہ کام کرتا تھا۔ کون ہو اور کہاں سے آئے ہو، یہ اہم نہیں؛ اہم یہ ہے کہ دروازے پر کھڑے اجنبی کا استقبال کیسے کرتے ہو۔ یہ زاویہ اجنبی کو «غیر» بنانے کے بالکل الٹ کام کرتا ہے، کیونکہ یونانی نظر میں وہ ایک ممکنہ دیوتا بن جاتا ہے۔ اور اجنبی میں دیوتا دیکھ لینے کا امکان انسان کے سب سے آسان کام کو، یعنی اجنبی سے ڈرنے کو، ایک فضیلت میں بدل دیتا ہے۔ اوڈیسی کا سارا اخلاقی بوجھ اسی ایک بنیاد پر ٹکا ہے۔
اس معاملے پر مشرق کا سب سے دلچسپ جواب قرآن میں موسیٰؑ اور خضرؑ کے سفر میں آتا ہے۔ دونوں ایک بستی میں پہنچتے ہیں اور اہلِ بستی سے کھانا مانگتے ہیں؛ بستی انہیں مہمان رکھنے سے انکار کر دیتی ہے۔ خضرؑ وہاں سے نکلنے سے پہلے اسی بستی کی گرنے والی دیوار بغیر کسی معاوضے کے سیدھی کر دیتے ہیں۔
یونانی بیان میں مہمان کو دھتکارنے والے قصبے کو سیلاب بہا لے جاتا ہے۔ قرآنی بیان میں مہمان نوازی کی غیر موجودگی کا جواب خود مہمان نوازی سے دیا جاتا ہے۔
یہ دونوں روایتیں آج ایک بہت جانی پہچانی صورتحال یاد دلاتی ہیں۔ دنیا ہجرتوں سے، سرحدوں پر کھڑے اجنبیوں سے اور دروازے کھٹکھٹاتے ضرورت مندوں سے بھری ہوئی ہے۔ جدید ریاستیں اجنبی کو خطرہ یا اعداد و شمار کی ایک سطر سمجھنے کی طرف مائل ہیں، اور جب سرحد خود ایک عقیدے کی جگہ لینے لگے تو اقبال اسی رجحان کو «ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے» کہہ کر پہچان چکے تھے۔ حالانکہ میدان اور یونان دونوں ہزاروں سال پہلے کچھ اور کہہ چکے تھے: دروازے پر کھڑا اجنبی یا برکت لانے والا مہمان ہے، یا پھر یونانی تصور میں بھیس بدلا ہوا کوئی دیوتا۔ شاید کسی سماج کی پختگی کا پیمانہ بالکل یہی ہے کہ وہ اجنبی کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے، کیونکہ جسے ہم جانتے ہیں اس کے ساتھ اچھا برتاؤ آسان ہے؛ اصل امتحان وہ لمحہ ہے جب کوئی بالکل انجان ہمارے دروازے پر آ کھڑا ہوتا ہے۔
انسانیت کا سب سے پرانا اور شاید سب سے خاص امتحان آج بھی یہی ہے۔
متعلقہ کتابیں

پہنچنے والے کا حق
آگے سمندر ہے
انتظار حسین
کانٹ کا دعویٰ تھا کہ اجنبی کا یہ حق ہے کہ اسے دروازے سے واپس نہ لوٹایا جائے؛ انتظار حسین وہی منظر لکھتے ہیں جہاں لوگ پہنچ تو گئے مگر پوری طرح قبول نہ ہوئے۔ ناول کا نام اُسی جملے سے آیا ہے جو ہجرت کرنے والوں سے کہا گیا تھا: آگے سمندر ہے۔
مزید پڑھیں
چار درویش، چار کہانیاں
باغ و بہار
میر امن دہلوی
وارنر پناہ اور کہانی کو ایک ہی چیز کے دو رخ مانتی ہیں، اور باغ و بہار بالکل یہی کرتی ہے۔ چار مسافر درویش ایک اجنبی کے ہاں ٹھہرتے ہیں اور اپنی داستانیں سنا کر جگہ کماتے ہیں: یہاں مہمان نوازی سننے سے شروع ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں
ہر دروازہ ایک امتحان
جہاں گرد کی واپسی
ہومر (مترجم: محمد سلیم الرحمٰن)
یونانی مہمان نوازی کا اصل متن یہی ہے: اوڈیسیس ہر دَر پر اجنبی بن کر پہنچتا ہے اور ہر میزبان آزمایا جاتا ہے۔ محمد سلیم الرحمٰن کا نثری اردو ترجمہ اُس دنیا کو براہِ راست پڑھنے دیتا ہے جس سے زیوس زینیوس کا تصور نکلا۔
مزید پڑھیں
شاہراہِ ریشم کا شہر
سمرقند
امین معلوف
مضمون کا دوسرا سرا وسطی ایشیا ہے، وہی راستے جن پر قافلے، عقیدے اور مسودے ساتھ ساتھ سفر کرتے تھے۔ معلوف کا یہ ناول سمرقند اور عمر خیام کے گرد دکھاتا ہے کہ ایک شہر کیسے اجنبیوں، مذہبوں اور خیالوں کی گزرگاہ بن جاتا ہے۔
مزید پڑھیںبطور ایمیزون ایسوسی ایٹ، اہل خریداریوں سے آمدنی حاصل کرتا ہوں۔
© 2026 eastwestmindset — جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ اس سائٹ کی تحریروں کے استعمال کے لیے اجازت درکار ہے۔