مزید کے لیے سبسکرائب کریں

نئے مشرق × مغرب مضامین، ہر ہفتے۔

شکریہ — آپ فہرست میں شامل ہو گئے۔

رکنیت نہ ہو سکی — دوبارہ کوشش کریں۔

مشرق × مغرب

مینٹور: وہ لفظ جو ہومر کی اوڈیسی سے نکلا

زبانجوہر·26 جولائی، 2026·8 منٹ کا مطالعہ

کل شام میں نے کرسٹوفر نولان کی اوڈیسی دیکھی۔ جس منظر میں مینٹور کا کردار مرتا ہے، وہیں میرا ذہن بالکل کسی اور طرف نکل گیا۔

جس کمپنی میں میں کام کرتا ہوں، وہاں ایک مینٹور پروگرام ہے۔ کوئی نیا آدمی کمپنی میں شامل ہو تو اسے ایک مینٹور دیا جاتا ہے۔ وہ شخص نئے آنے والے کو آن بورڈنگ کے مرحلے سے گزارتا ہے اور خاص طور پر پہلے مہینوں میں اسے کام کا وہ حصہ سمجھاتا ہے جو کہیں لکھا ہوا نہیں ہوتا۔

اور وہیں، اندھیرے ہال میں، ایک عجیب سوال میرے ذہن میں اٹک گیا۔ کیا یہ لفظ واقعی اوڈیسی سے آیا ہے؟ کیا مینٹور کا پہلا استعمال اوڈیسی کے اسی جنگجو کردار کے لیے ہوا؟ یہ ہماری سائٹ کے “الفاظ کی جڑیں” سلسلے کے لیے اچھا موضوع بنے گا۔

گھر آ کر میں نے تحقیق کی۔ جواب ہاں نکلا۔ مگر اصل دلچسپی جواب میں نہیں، جواب کے پیچھے کھڑی تفصیلوں میں ہے۔

اوڈیسی میں مینٹور تقریباً بولتا ہی نہیں

ہومر کی رزمیہ داستان میں مینٹور، اوڈیسیس کا پرانا دوست ہے۔ اوڈیسیس ٹرائے کی جنگ پر جاتے ہوئے اپنا گھر اور اپنا بیٹا ٹیلیماکس اسی کے سپرد کرتا ہے۔

اب منطقی طور پر آپ یہ توقع کریں گے۔ مینٹور پوری داستان میں موجود رہے گا، لڑکے کو نصیحتیں کرے گا، لمبی گفتگو کرے گا۔

ایسا نہیں ہوتا۔

جب مجھ پر کھلا کہ متن میں مینٹور کے حصے میں تقریباً کوئی مکالمہ آتا ہی نہیں، تو میں رک کر دوبارہ پڑھنے لگا۔ کیونکہ ٹیلیماکس کو اصل راستہ ایتھینا دکھاتی ہے۔ فلم میں یہ فرق زیادہ واضح نہیں ہوتا۔ یونانی دیومالا کی یہ دیوی وقتاً فوقتاً مینٹور کا روپ دھار کر آتی ہے۔ آواز مینٹور کی ہے، چہرہ مینٹور کا ہے، مگر اندر سے بولنے والی دانائی کی دیوی ہے۔

یعنی داستان کا “مینٹور” دراصل ایک نقاب ہے۔ رہنمائی کرنے والا شخص نہیں، وہ صورت ہے جو رہنمائی اختیار کر لیتی ہے۔

اردو کے قاری کے لیے یہ خیال اجنبی نہیں۔ اقبال نے جاوید نامہ میں اپنے سفر کا رہنما رومی کو بنایا، حالانکہ دونوں کے درمیان صدیوں کا فاصلہ حائل تھا۔ رہنما وہاں ایک جسم نہیں، ایک آواز ہے جو کسی شکل میں ڈھل کر ساتھ چل پڑتی ہے۔

اٹھائیس سو برس بعد ہماری کمپنی کے شعبۂ افرادی قوت نے اتفاقاً یہی لفظ چن لیا۔ اور جس کردار کے نام سے یہ لفظ نکلا، وہ اپنی ہی داستان میں ایک بار بھی ڈھنگ سے نہیں بولا۔

ہومر کے ہاں نام بولتے ہیں

یہ سمجھنے کے لیے جاننا ہوگا کہ قدیم یونان نام کو کس نظر سے دیکھتا تھا۔

ہومر کی دنیا میں نام کوئی من مانا لیبل نہیں۔ نام اپنے اندر یہ بات اٹھائے پھرتا ہے کہ آدمی کون ہے اور اس کے ساتھ ہونا کیا ہے۔

اس تصور کے لیے “پورٹمینٹو الفاظ” کی اصطلاح چل سکتی ہے۔ اسے ایک الماری کی طرح سوچیے۔ باہر سے آپ کو ایک ہی لفظ دکھائی دیتا ہے، مگر کھولیں تو اندر تہ کیے ہوئے کئی معنی نکل آتے ہیں۔ کردار کا نچوڑ اسی ایک لفظ میں ٹھونس دیا گیا ہے۔

لاطینی میں اس کے لیے ایک فقرہ ہے: nomen est omen۔ نام ہی پیشین گوئی ہے۔

“مینٹور” بھی اسی قسم کا نام ہے۔

یہ لفظ ہند-یورپی مادر زبان کی جڑ *men- پر کھڑا ہے۔ معنی: سوچنا، عقل سے کام لینا۔ یونانی میں یہ menos کی صورت میں زندہ رہا — ذہن، روح، جانِ حیات۔

یعنی مینٹور کے نام کا سیدھا ترجمہ ہے: سوچنے والا آدمی، یا عقل دینے والا۔

ہومر نے اس کردار کو رہنما بنایا، اس سے پہلے ہی نام اسے رہنما قرار دے چکا تھا۔ اسے منظر پر آنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔

ایک ہی جڑ کے دو سرے

ایک بات اور ملی، اور سچ کہوں تو میں تھوڑا چونک گیا۔

*men- جڑ لاطینی میں mens بن کر داخل ہوئی۔ ذہن اور عقل کے معنی میں۔ یہیں سے وہ لفظ پیدا ہوا جو آج ہم سب جانتے ہیں: dementia۔ یعنی de- (دور ہٹنا) جمع mens (ذہن)۔

ذہن سے دور ہو جانا۔

مینٹور اور ڈیمنشیا ایک ہی ماقبلِ تاریخ آواز سے الگ ہوئے دو بھائی ہیں۔ ایک ذہن کا کسی کو تحفے میں دیا جانا، دوسرا ذہن کا ہاتھ سے نکل جانا۔ ایک ہی جڑ سے نکلے اور بالکل مخالف سمتوں میں چل پڑے۔

یہ جڑ سنسکرت میں بھی زندہ رہی: manas۔ ہندوستانی فلسفے میں manas سوچ کا خام مال ہے — ذہن کی وہ تہ جو مسلسل کام کرتی اور تاثرات جمع کرتی رہتی ہے۔ اپنشدوں میں اور بدھ نفسیات میں یہ ہمیشہ ایک ہی جگہ کھڑا ملتا ہے۔

اور یہ لفظ ہم سے اتنا دور بھی نہیں۔ اردو کا “من” اسی سنسکرت manas کی اولاد ہے۔ من کی بات، من میں آنا، من چاہا — ہم روز اسی جڑ کو زبان پر لاتے ہیں اور خبر تک نہیں ہوتی۔ اردو کا مزاج ہی یہ ہے کہ فارسی، عربی اور سنسکرت کی تہیں ایک ہی جملے میں شانہ بہ شانہ چلتی ہیں۔

ایک ہی آواز بحیرۂ روم کے کنارے ایک داستانی کردار کا نام بنی، اور جنوبی ایشیا میں انسانی شعور کی بنیادی اصطلاح۔ فاصلہ ہزاروں کلومیٹر کا ہے، مگر جڑ ایک ہے۔

کارپوریٹ کمپنیوں میں مینٹورشپ آخر ہے کیوں؟

اب میں اصل سوال پر آتا ہوں۔ یہ کہ کمپنی کا وہ پروگرام سرے سے ہے کیوں۔

نئے آنے والے کو آپ دستاویزات دے سکتے ہیں۔ عمل کا نقشہ، اوزاروں کی فہرست، آن بورڈنگ وکی۔ سب لکھا ہوا ہے اور سب تک رسائی بھی ہے۔

مگر کون سی میٹنگ میں بیٹھنا واقعی اہم ہے، کس آدمی کے پاس کس انداز سے جانا ہے، کوئی ای میل کب بھیجنی ہے، کوئی اعتراض کس لہجے میں رکھنا ہے۔ یہ باتیں کوئی دستاویز نہیں بتاتی۔

اس قسم کے علم کو “خاموش علم” کہا جاتا ہے۔ ہنگری نژاد برطانوی سائنس دان اور فلسفی مائیکل پولانی کی تعریف میں: وہ چیز جو ہم جانتے ہیں مگر کہہ نہیں سکتے۔

یوں سوچیے۔ سائیکل چلانا جاننے والا کوئی شخص آپ کو یہ کام لکھ کر سمجھا سکتا ہے؟ توازن، پیڈل، ہینڈل — سب لکھ بھی دے تو آپ اس تحریر کے سہارے سائیکل نہیں چلا سکیں گے۔ علم لفظ میں نہیں، بدن میں رہتا ہے۔

پولانی کی اپنی مثال اس سے بھی زیادہ چبھتی ہے۔ آپ ہزاروں چہروں میں سے ایک چہرہ پہچان لیتے ہیں، مگر یہ نہیں بتا سکتے کہ پہچانا کیسے۔ بتانے بیٹھیں تو ہاتھ میں چند سوکھی صفتیں رہ جاتی ہیں۔ جو چیز پہچانتی ہے، وہ نہیں ہے جسے آپ بیان کر سکتے ہیں۔

اردو شاعری کی روایت اس بات کو صدیوں سے جانتی ہے۔ نوآموز شاعر اپنی غزل استاد کے سامنے رکھتا تھا اور استاد اس پر اصلاح دیتا تھا۔ عروض کی کتابیں موجود تھیں، بحریں لکھی ہوئی تھیں، قافیے کے قاعدے سب کو معلوم تھے۔ پھر بھی شاگرد برسوں استاد کے پاس بیٹھتا رہتا تھا۔ کیونکہ جو سکھایا جا رہا تھا وہ قاعدہ نہیں تھا۔ وہ یہ فیصلہ تھا کہ کہاں کون سا لفظ بھاری پڑ رہا ہے اور کون سا مصرع بولنے میں لڑکھڑا رہا ہے۔ اور یہ فیصلہ کتاب سے نہیں آتا۔

کمپنیوں کے لیے بھی تحریری زبان اور بولا جانے والا شعور دو الگ چیزیں ہیں۔ جو کچھ معلوم ہے، وہ سب لکھا نہیں جا سکتا۔ اور کچھ چیزیں لکھے جانے کے قابل ہی نہیں ہوتیں۔ کمپنی جیسے زندہ اور بدلتے ہوئے وجود میں ہر چیز سانچے میں ڈھال کر نہیں لکھی جا سکتی۔ لکھ بھی دی جائے تو نیا آنے والا جب ان کاغذوں تک پہنچتا ہے، اُس وقت کا اصل معاملہ کسی اور شکل میں ڈھل چکا ہوتا ہے۔

کارپوریٹ زندگی کا بڑا حصہ اسی طرح چلتا ہے۔ اور جو علم تحریر میں نہیں آتا، اس کے منتقل ہونے کا صرف ایک راستہ بچتا ہے۔ کسی کے پاس کھڑے رہنا۔

مینٹورشپ کا ادارہ اتنا پرانا کیوں ہے، جواب یہیں ہے۔ یہ محض انتظامی فیشن نہیں۔ یہ انسان کے سب سے پرانے مسئلۂ منتقلی کا سب سے پرانا حل ہے۔

خاص نام عام لفظ کیسے بن جاتا ہے

تاریخ میں ایسے خاص نام بہت کم ہیں جو خاص سے عام ہو جائیں اور اس اترائی میں اپنی قدر نہ کھوئیں۔

نارسیسس دیومالا کا ایک کردار تھا، نرگسیت شخصیت کی ایک تعریف بن گئی۔ اوڈیسی ایک داستان کا نام تھا، انگریزی میں odyssey لمبے اور کٹھن سفر کو کہتے ہیں۔ مینٹور داستان کا ایک کردار تھا، آج ہر زبان میں ایک ہی قسم کے رشتے کا نام ہے۔

اردو اس کھیل سے خوب واقف ہے۔ مجنوں ایک داستان کے عاشق کا نام تھا۔ آج کسی کو مجنوں کہا جائے تو داستان یاد نہیں آتی، ایک کیفیت یاد آتی ہے۔ نام پیچھے رہ جاتا ہے، کیفیت آگے نکل جاتی ہے۔

میں سوچتا رہا کہ یہ منتقلی ہوتی کیوں ہے۔ جواب شاید یہ ہے۔

تصور لفظ سے پہلے موجود ہوتا ہے۔

لوگ رہنمائی کا رشتہ ہزاروں برس سے جیتے آئے تھے۔ استاد شاگرد کو تیار کرتا تھا، بوڑھا جوان کو خبردار کرتا تھا، تجربہ کار ناتجربہ کار کے ساتھ کھڑا ہوتا تھا۔ مگر اس رشتے کا کوئی نوکیلا نام نہیں تھا۔

ہومر نے جب ایک کردار کو وہ نام دیا، تو نام ایک خالی پڑے خانے میں جا بیٹھا۔ اتنا ٹھیک بیٹھا کہ وقت کے ساتھ کردار کو نہیں، تصور کو بیان کرنے لگا۔

اسے ممکن بنانے والی چیز جڑ کی شفافیت تھی۔ قدیم یونانی جب یہ نام سنتا تھا تو “جس کے پاس عقل ہے، جو عقل دیتا ہے” کا مفہوم خود بخود اس تک پہنچ جاتا تھا۔

معنی چھپا ہوا نہیں تھا، نام خود اس کی نمائندگی کر رہا تھا۔

جو نام اپنے اندر ایک پورا تصور اٹھائے پھرتا ہو، اسے دیر سویر اسی تصور میں بدل جانا ہوتا ہے۔

کرسٹوفر نولان کی اوڈیسی کے ایک کردار کے ایک منظر نے مجھے یہ سب سوچنے پر لگا دیا…

طنز اس میں یہ ہے کہ داستان اور فلم، دونوں میں سب سے کم بولنے والا کردار آج ہر دفتر میں چلنے والے ایک لفظ کی بنیاد بن گیا۔ شاید اچھی رہنمائی ہوتی ہی ایسی ہے۔ بہت بولنے والی نہیں، ساتھ کھڑی رہنے والی۔

S.K.C. نے 26.07.2026 کو ویانا میں لکھا۔
پسند آیا؟ مزید دریافت کریں

متعلقہ کتابیں

جہاں گرد کی واپسی

خود اصل ماخذ

جہاں گرد کی واپسی

ہومر (ترجمہ: محمد سلیم الرحمٰن)

مینٹور اسی رزمیہ میں پیدا ہوا اور تقریباً بولے بغیر ایک پورے تصور کا نام بن گیا۔ تحریر ختم کر کے خود متن تک جانا ہو تو پہلا پڑاؤ یہی ہے۔

مزید پڑھیں
آبِ حیات

استاد شاگرد کی روایت

آبِ حیات

محمد حسین آزاد

آزاد اردو شاعری کی پوری تاریخ استاد اور شاگرد کے سلسلوں کے ذریعے لکھتے ہیں۔ جو ہنر کتاب میں نہیں لکھا جا سکتا، وہ صحبت اور اصلاحِ سخن سے منتقل ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں
اردو زبان کی مختصر ترین تاریخ

لفظ کہاں سے آئے

اردو زبان کی مختصر ترین تاریخ

سلیم اختر

سلیم اختر دکھاتے ہیں کہ اردو کے الفاظ سنسکرت، فارسی، عربی اور ترکی سے کس راستے آئے اور راستے میں اُن کے معنی کیسے بدلے۔

مزید پڑھیں
اردو لسانیات

زبان اور ذہن

اردو لسانیات

اے۔ آر۔ فاتحی

یہ کتاب لفظ کی ساخت، معنی اور ذہن کے رشتے کو کھولتی ہے۔ اصل سوال یہی ہے کہ ایک نام کیسے آہستہ آہستہ ایک تصور بن جاتا ہے۔

مزید پڑھیں

بطور ایمیزون ایسوسی ایٹ، اہل خریداریوں سے آمدنی حاصل کرتا ہوں۔

© 2026 eastwestmindset — جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ اس سائٹ کی تحریروں کے استعمال کے لیے اجازت درکار ہے۔