زمین ملکیت ہے یا رشتہ؟ لاکوٹا اور جدید مغرب کے دو تصور
“کیا زمین بیچی جا سکتی ہے؟ کیا آسمان بیچا جا سکتا ہے؟” یہ سوال لاکوٹا رہنما سٹنگ بُل نے اٹھایا تھا۔ یہ کوئی نعرہ نہیں تھا؛ ایک حقیقی سوال تھا۔ اور اس سوال کے اندر ایک کہیں گہرا مسئلہ چھپا ہوا تھا: کسی چیز کا مالک بننے کے لیے کیا پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری نہیں کہ وہ ایک بےجان شے ہے؟ سٹنگ بُل زمین کو اس نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ اُن کے نزدیک زمین خرید و فروخت کی جنس نہیں، ایک قرابت دار تھی۔
ہم زمین کو کیا سمجھتے ہیں، یہ تہذیب سے تہذیب بدل جاتا ہے۔ کسی کے لیے وہ رجسٹر میں لکھا ہوا ایک نمبر ہے۔ کسی کے لیے ایک زندہ وجود، جس پر کبھی اُس کے آباء چلتے تھے۔ زمین ہم زندوں کے قدموں تلے ہے، اور رخصت ہو جانے والوں کے اوپر۔
وہ ماں جو بکتی نہیں
لاکوٹا زبان میں ایک دعا ہے: “مِتاکویے اویاسِن” — یعنی ہم سب ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں۔ یہ بات صرف انسانوں کے لیے نہیں کہی جاتی تھی۔ زمین، دریا، پہاڑ، بھیڑیا، عقاب — سب اسی قرابت کے جال میں شامل تھے۔
لاکوٹا کے تصور میں پاہا ساپا، یعنی سیاہ ٹیلے، ایک بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ایک ایسی جگہ جہاں جا کر دعا کی جاتی، بات کی جاتی، جسے خاموش پتھر نہیں بلکہ ایک ذی روح وجود مانا جاتا۔ یہاں بات کسی عقیدے کے درست یا غلط ہونے کی نہیں۔ یہ اُس زبان کی تفہیم ہے جو ایک قوم اپنی زمین کے بارے میں بولتی تھی — اور وہ زبان ملکیت کی نہیں، قرابت کی تھی۔ ماں کو بیچا نہیں جاتا؛ پاہا ساپا کو بھی نہیں بیچا جا سکتا تھا۔
1868 میں فورٹ لیرامی کے معاہدے نے یہ علاقہ ہمیشہ کے لیے لاکوٹا کے نام کر دیا۔ پھر سیاہ ٹیلوں میں سونا نکل آیا۔ معاہدہ یکطرفہ طور پر توڑ دیا گیا اور زمین چھین لی گئی۔
مگر کہانی کا سب سے حیران کن حصہ بہت بعد میں آیا۔ 1980 میں امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ زمین ناحق لی گئی تھی، اور سود سمیت ایک کروڑ ستر لاکھ ڈالر سے زائد کا معاوضہ منظور کیا۔ لاکوٹا نے یہ رقم لینے سے انکار کر دیا۔ انکار اس لیے کیا کہ رقم قبول کرنے کا مطلب زمین کے دعوے سے ہمیشہ کے لیے دستبردار ہو جانا تھا۔ وہ کھاتہ آج ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے اور سرکاری خزانے میں بغیر چھوئے پڑا ہے۔
یہ نظر صرف لاکوٹا تک محدود نہیں تھی؛ براعظم کے مقامی باشندوں میں یہ ایک مشترک بصیرت تھی۔ سوکوامش سردار سیاٹل سے منسوب ایک مشہور بات کا مفہوم یہی ہے کہ ہوا کی حرارت یا آسمان کی وسعت کو خریدنے بیچنے کا خیال ہی اُن لوگوں کے لیے اجنبی تھا۔ اِن قوموں کے لیے زمین جائیداد نہیں، ایک تعلق تھی۔ ایک زندہ کُل، جس میں آباء دفن تھے، بچے جنم لیتے تھے اور بھینسے چرتے تھے۔
گریٹ پلینز کی اقوام کے لیے بھینسوں کے ریوڑ اور زمین ایک ہی کپڑے کے دو دھاگے تھے۔ ایک کو ختم کرنا دوسرے کو مار دینا تھا۔
اور یہ تباہی کوئی حادثہ نہیں، ایک سوچی سمجھی حکمت عملی تھی۔ جنرل شیریڈن سے یہ بات منسوب کی جاتی ہے کہ مقامی قوموں کو مطیع کرنے کا تیز ترین راستہ بھینسوں کو اتنا کم کر دینا ہے کہ بھوک خود کام کر جائے (اس بات کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں کہ یہ الفاظ جنرل شیریڈن نے کہے تھے؛ یہ دعویٰ 1907ء میں شائع ہونے والی یادداشتوں کی ایک کتاب پر مبنی ہے)۔ فوج نے شکاریوں کو مفت کارتوس تک بانٹے۔ جن میدانوں میں لاکھوں بھینسے پھرتے تھے، بیسویں صدی کے آغاز تک وہاں چند سو جانور بچے تھے۔ زمین لینے کے لیے پہلے زمین کے دل پر وار کیا گیا تھا۔
یہاں ایک بات کہے بغیر آگے بڑھنا مشکل ہے: ایک ارب ڈالر کو “نہیں” کہنا۔ پہلی بار سن کر یقین نہیں آتا۔ مگر معاملہ رقم کا ہے ہی نہیں۔ لاکوٹا کے لیے وہ رقم لینا اس بات کو ماننے کے برابر تھا کہ ماں کی بھی کوئی قیمت ہوتی ہے۔ بعض چیزوں کے بارے میں “کتنے کی؟” پوچھنا خود ایک توہین ہے۔ اور شاید یہ انکار جدید دنیا سے ایک خاموش مگر بےچین کر دینے والا سوال کر رہا ہے: جس عہد میں ہم فرض کر بیٹھے ہیں کہ ہر شے کی ایک قیمت ہے، کیا ہم میں اب بھی کچھ لوگ باقی ہیں جنہیں یاد ہو کہ کچھ چیزیں بکتی نہیں؟
محنت جس کی، زمین اُس کی
جدید مغرب میں زمین کی کہانی ایک فلسفی سے شروع ہوتی ہے: جان لاک اور اُس کا نظریۂ محنت۔ سترہویں صدی میں اُس نے کہا کہ اگر تم کسی زمین میں اپنی محنت ملا دو — اسے جوتو، کاشت کرو، اس پر تعمیر کرو — تو وہ زمین تمہاری ہو جاتی ہے۔ اسی نظریے نے حقِ ملکیت کی بنیاد رکھی اور آج دنیا کے تقریباً ہر قانونی نظام کے مرکز میں بیٹھا ہوا ہے۔ مسیحی الٰہیات بھی ساتھ کھڑی تھی: کتابِ پیدائش میں انسان سے کہا گیا تھا کہ زمین پر تصرف کرو۔
پھر ایک اور اصول آیا: ٹیرا نولیئس، یعنی “خالی زمین”۔ اگر کوئی قوم زمین کو اُس طریقے سے استعمال نہیں کر رہی جسے مغرب پہچانتا ہے — یعنی باڑ نہیں لگا رہی، کاغذات میں درج نہیں کرا رہی — تو وہ زمین لاوارث سمجھی جائے گی اور اس پر قبضہ جائز ہو گا۔ یوں ہزاروں سال سے کسی جگہ آباد قوموں کی زمینیں کاغذ پر “قانونی” طور پر ہاتھ بدلتی چلی گئیں۔
سٹنگ بُل کی قوم کے لیے المیہ یہی تھا: زمین کے لیے اُن کا احترام ہی وہ چیز تھی جو مغرب کی آنکھ میں اُس زمین کو “خالی” ثابت کرتی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ منطق سب سے پہلے مغرب نے اپنے ہی اندر آزمائی۔ انگلستان میں باڑبندی کی تحریک کے ذریعے وہ مشترکہ چراگاہیں، جو صدیوں سے سب کے لیے کھلی تھیں، نجی ملکیت میں بدل دی گئیں؛ کسان اپنی ہی کاشت کی ہوئی زمین سے بےدخل ہوئے۔ یعنی زمین کو جنس بنانے کا خیال نوآبادیات سے پہلے یورپ نے اپنے غریبوں پر آزما لیا تھا۔
یہی منطق کچھ عرصے بعد برصغیر پہنچی۔ 1793 کے مستقل بندوبست میں بنگال کی زمین ناپی گئی، اُس کا محصول ہمیشہ کے لیے طے ہوا، اور مالگزاری وصول کرنے والوں کو راتوں رات کاغذ کا مالک بنا دیا گیا۔ جو دیہاتی نسلوں سے وہی کھیت جوت رہے تھے، وہ رجسٹر میں کرایہ دار ٹھہرے۔ بعد کے بندوبستوں میں پنجاب اور سندھ کی شاملات — گاؤں کی وہ مشترکہ زمین جس پر چرنے، لکڑی کاٹنے اور گزرنے کا حق سب کا تھا — بھی ریکارڈ میں تقسیم ہوتی چلی گئی۔ ملکیت پیدا کرنے کا سب سے مؤثر آلہ توپ نہیں تھی؛ پیمائش کی زنجیر اور پٹواری کا رجسٹر تھا۔
یہ زاویۂ نظر غیر معمولی حد تک زرخیز ثابت ہوا — اس نے جدید سرمایہ داری، زراعت اور صنعت کا راستہ کھولا۔ مگر ہر باڑ کے پیچھے اُن قدموں کی کہانی بھی رہ گئی جو کبھی وہاں آزادی سے پڑتے تھے۔ ملکیت ایک تحفظ لے کر آئی؛ مگر ساتھ ہی ایک نئی دنیا بھی بنائی، جو کہتی ہے: “یہ میرا ہے، تم اندر نہیں آ سکتے۔”
سوال یہ بھی ہے کہ زمین کا جواز کس چیز سے بنتا ہے — کاغذ سے، یا اُس رزق سے جو وہ پیدا کرتی ہے۔ اقبال نے اسی زاویے سے دیکھا تھا: جو کھیت کاشت کرنے والے کو روٹی نہ دے، اُس کھیت کے قائم رہنے کا اخلاقی جواز باقی نہیں رہتا۔ یہ ملکیت کے خلاف بات نہیں تھی؛ یہ ملکیت سے حساب مانگنے کی بات تھی۔
دونوں زاویوں کو ساتھ رکھ کر دیکھیں تو ایک سوال جنم لیتا ہے: فرق دراصل قانون میں نہیں، اس سوال میں ہے کہ “موجود کیا ہے؟” لاکوٹا کے لیے زمین ایک جیتی جاگتی، محسوس کرتی، رشتہ بناتی ہوئی ذات تھی۔ مغرب کے لیے زمین ایک ناپی جانے والی، بانٹی جانے والی، ملکیت میں لی جانے والی شے۔ ایک نظر انسان کو زمین کا حصہ مانتی ہے؛ دوسری زمین کو انسان کا حصہ، یعنی اُس کی جائیداد۔
وہ نقطہ جہاں دونوں درست ہیں
زمین کو لامحدود طور پر نچوڑی جانے والی شے کے بجائے ایک ایسے جال کا حصہ سمجھنا جس میں تم خود بھی کھڑے ہو — جدید ماحولیات ہزاروں اعداد و شمار کے بعد بالکل اسی نتیجے پر پہنچی ہے۔ لاکوٹا نے یہ بات نظریے کے طور پر نہیں، طرزِ زندگی کے طور پر ہزاروں سال جی کر دیکھی۔ جسے ہم آج “پائیداری” کہتے ہیں، اُس کا ایک حصہ صرف اُس قرابت کا نیا نام ہے جو وہ شروع سے جانتے تھے۔
یہ بصیرت آج ایک غیر متوقع جگہ گونج رہی ہے: قانون کی کتابوں میں۔ نیوزی لینڈ میں دریائے وانگانوئی کو قانونی شخصیت دی گئی۔ بھارت میں ایک عدالتی فیصلے نے گنگا کے بارے میں یہی بات کہی۔ کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں دریائے میگپی کو بھی یہی حیثیت ملی۔
یعنی یہ دریا اب “کیا” نہیں، “کون” ہیں۔ اُن کا بہنا، آلودہ نہ ہونا، اپنے ماحولیاتی نظام کو زندہ رکھنا — یہ سب اب ایسے حقوق ہیں جن کا قانونی دفاع ممکن ہے۔
لاک زمین کو “کاشت کے قابل ایک شے” کہہ رہا تھا، اور جدید قانون خاموشی سے لاکوٹا کی زبان کی طرف لوٹ رہا ہے: کچھ وجود ملکیت کے لیے نہیں، رشتے کے لیے ہوتے ہیں۔
دوسری طرف یہ بھی سچ ہے کہ جو کسی کا نہیں، اُس پر ہر کوئی دعویٰ کر سکتا ہے۔ مغرب کا طریقہ شاید بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے ایک ضرورت تھا۔ حقِ ملکیت نے ابہام ختم کیا: کس کا کیا ہے، کون سا معاہدہ معتبر ہے؟ اس وضاحت کے بغیر بڑے پیمانے کی زراعت، شہر اور بنیادی ڈھانچہ ممکن نہ ہوتا۔ انفرادی ملکیت کی ضمانت کے بغیر قرض، مکان کی مالی اعانت اور طویل مدتی سرمایہ کاری جیسی معیشتیں بھی نہ بن پاتیں۔
مگر یہ وضاحت خودبخود انصاف نہیں بن جاتی۔ جنوبی ایشیا میں زرعی اصلاحات کی بحثیں اسی کشمکش کے گرد گھومتی رہی ہیں: ملکیت کی حد کیا ہو، اور جو ہاتھ زمین کو جوتتا ہے اُس کا اُس میں حصہ کتنا ہے۔ کاغذ نے یہ طے کر دیا کہ زمین کس کی ہے؛ یہ طے نہیں کیا کہ اُس کا پھل کس تک پہنچے۔
شاید مستقبل دونوں نظروں کو جوڑنے میں ہے: مغرب کے دیے ہوئے تحفظ اور نظم کو اُن مقامی روایات کے ادب کے ساتھ ملانے میں جو زمین کے لیے رکھا جاتا تھا۔ کیونکہ زمین کی حفاظت بھی کرنا اور اُس پر انصاف کے ساتھ بسنا بھی — یہ تبھی ممکن ہے جب ہم اسے نہ محض ایک جائیداد سمجھیں، نہ کوئی ناقابلِ بحث ممنوع۔
متعلقہ کتابیں

زمین، وراثت اور محرومی
اداس نسلیں
عبداللہ حسین
ناول کا آغاز ہی نہری آبادیوں کی زمین کے جھگڑے سے ہوتا ہے: انگریز نے زمین کو 'عطیہ' اور 'ملکیت' میں بدلا، اور دیہی نسلوں نے اس کی قیمت چکائی۔ یہاں بھی زمین پہلے رشتہ تھی، پھر کاغذ بن گئی۔
مزید پڑھیں
دریا سوکھا، تہذیب بجھی
بہاؤ
مستنصر حسین تارڑ
تارڑ آثارِ قدیمہ کی تحقیق کو وادیِ سندھ کے لوگوں کے اپنے یقین اور روایتی دانش کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں۔ جب پانی ملکیت نہیں بلکہ رشتہ سمجھا جائے، تب اس کے کھو جانے کا اصل مطلب کھلتا ہے۔
مزید پڑھیں
وعدے کی زمین
زمین
خدیجہ مستور
تقسیم کے بعد الاٹمنٹ کے کاغذ زمین کو انصاف میں نہ بدل سکے۔ خدیجہ مستور اندر سے دکھاتی ہیں کہ زمین محض جائیداد نہیں، شناخت اور تقدس کا دعویٰ بھی ہے۔
مزید پڑھیں
بستی، ریاست اور منڈی
خدا کی بستی
شوکت صدیقی
شوکت صدیقی کی بستی وہ مشترکہ زمین ہے جسے نہ ریاست سنبھال پاتی ہے نہ منڈی۔ آسٹروم کا سوال یہاں الٹا کھڑا ہے: جب اجتماعی انتظام ٹوٹتا ہے تو بے دخل کون ہوتا ہے۔
مزید پڑھیںبطور ایمیزون ایسوسی ایٹ، اہل خریداریوں سے آمدنی حاصل کرتا ہوں۔
© 2026 eastwestmindset — جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ اس سائٹ کی تحریروں کے استعمال کے لیے اجازت درکار ہے۔