کیا ہم کسی تبدیلی کے عین بیچ میں کھڑے ہو کر اُس کا درست نقشہ کھینچ سکتے ہیں؟
کیا ہم کسی تبدیلی کے عین بیچ میں کھڑے ہو کر اُس کا درست نقشہ کھینچ سکتے ہیں؟
لکڑی کی دیواریں
فارس کی فوجیں قریب آ رہی تھیں، اور اہلِ ایتھنز نے ڈیلفی کے مندر کی طرف اپنے قاصد بھیجے۔
یونانی روایت بتاتی ہے کہ وہاں کی کاہنہ نے ایک دھندلی سی پیش گوئی سنائی: شہر جڑ سے اُکھڑ جائے گا، نجات صرف لکڑی کی دیواروں میں ہے۔
ایتھنز میں بحث چھڑ گئی۔ کچھ لوگوں نے اِس سے ایکروپولس کے گرد بندھی لکڑی کی باڑ سمجھی۔ یہ سمجھ بے وجہ نہیں تھی؛ لکڑی کی دیوار کہیں تو ذہن پہلے وہیں جاتا ہے۔ سپہ سالار تھیمِسٹوکلیس نے دوسرا مطلب نکالا: لکڑی کی دیواریں بحری بیڑے کے جہاز ہیں۔ اُس نے لوگوں کو خشکی چھوڑ کر کشتیوں پر سوار ہونے پر آمادہ کر لیا۔
480 قبل مسیح میں سلامِس کے پانیوں میں اُسی پھرتیلے لکڑی کے بیڑے نے فارسی جہازوں کو تتر بتر کر دیا۔
پیش گوئی سے زیادہ فیصلہ کن چیز اُس کی تعبیر تھی۔
آج بھی معاملہ بالکل یہی ہے۔ معلومات ہمارے پاس ہے، مگر معلومات اکیلے کوئی سمت نہیں دیتی۔ ایک ہی جملے سے دو الگ مستقبل نکل آتے ہیں، اور ہمیں یقین نہیں کہ کون سا درست ہے۔
مصنوعی ذہانت کے بارے میں ہماری حالت ٹھیک یہی ہے۔ اعداد موجود ہیں، رپورٹیں موجود ہیں، پیش گوئیاں موجود ہیں۔ جو چیز نہیں ہے، وہ ہمیں جِتوا دینے والی تعبیر ہے۔
اندر رہ کر ناپا نہیں جاتا
مصنوعی ذہانت کے انقلاب کے اندر ہونے کا پہلا مسئلہ جذباتی نہیں، پیمائشی ہے۔ پانی کی خبر مچھلی کو سب سے آخر میں ہوتی ہے؛ ہم بھی جس چیز کے اندر ہیں، اُسی کو ٹھیک سے دیکھ نہیں پا رہے۔
2025 میں METR نامی تحقیقی گروپ نے بظاہر ایک سادہ سا تجربہ کیا۔ تجربہ کار اوپن سورس ڈویلپرز کو اُنہی کے جانے پہچانے کوڈ ذخیروں میں اصلی کام سونپے گئے۔ کچھ کو مصنوعی ذہانت کے اوزار استعمال کرنے کی اجازت تھی، کچھ کو نہیں۔
نتیجہ یہ نکلا: اوزار استعمال کرنے والے ڈویلپرز نے کام اُنیس فیصد زیادہ سست رفتاری سے مکمل کیا۔
اصل بات یہ نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اُنہی ڈویلپرز نے تجربے کے بعد کیا کہا۔ اوسطاً اُن کا اندازہ تھا کہ مصنوعی ذہانت نے اُن کی رفتار بیس فیصد بڑھا دی۔
یعنی وہ سست ہوئے، مگر محسوس یہ ہوا کہ تیز ہو گئے۔ درمیان میں تقریباً چالیس پوائنٹ کا ادراکی فرق ہے۔
تحقیق کی حدود ایمانداری سے بتا دینی چاہئیں: سولہ ڈویلپر، دو سو چھیالیس کام، اور 2025 کے آغاز کے اوزار۔ ٹیم خود اِس نتیجے کو اب تاریخی سمجھتی ہے اور کہتی ہے کہ یہ آج کے اوزاروں کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اور اِس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت بےکار ہے۔
جو بات یہ کہتا ہے وہ زیادہ محدود اور زیادہ ہلا دینے والی ہے: کسی ٹیکنالوجی کے اندر ہوتے ہوئے، وہ ٹیکنالوجی آپ کے ساتھ کیا کر رہی ہے، اِسے آپ اپنے احساس سے نہیں ناپ سکتے۔
اِس نتیجے کو ہاتھ میں رکھیے، کیونکہ اِس تحریر کی باقی عمارت اِسی پر کھڑی ہے۔ انقلاب پر بات کرنے والا ہر شخص ایک ایسی چیز کو احساس کے سہارے بیان کر رہا ہے جسے اُس نے ناپا نہیں۔ اِس تحریر کا لکھنے والا بھی اِسی فہرست میں شامل ہے۔
نام ہمیشہ دیر سے پڑتا ہے
“صنعتی انقلاب” کی اصطلاح اُس وقت رائج نہیں تھی جب بھاپ کے انجن کارخانوں کو بھر رہے تھے۔ کسی دور کا نام اُس دور کے ختم ہونے کے بعد رکھا جاتا ہے۔ اُس میں جینے والوں نے اِسے انقلاب کی طرح نہیں، بلکہ ایک دوسرے سے کٹی ہوئی مشکلات اور مواقع کی صورت میں جیا۔ قیمتیں، ہجرت، بیماری، نئی معیشت، پھولتے ہوئے شہر۔
معاشی مؤرخ پال ڈیوڈ نے 1990 میں ایک مشہور موازنہ پیش کیا: بجلی کارخانوں میں داخل ہونے کے بعد پیداواریت کے اعداد ایک عرصے تک ہلے تک نہیں۔ اصل پیداواریت تقریباً تیس چالیس برس بعد ہاتھ آئی۔
وجہ بجلی کی کمزوری نہیں تھی۔ کارخانوں نے بھاپ کے انجن کی جگہ بجلی کی موٹر رکھ دی، مگر کارخانے کو نئے سرے سے نہیں سوچا۔ پرانے نظام میں ایک بڑا انجن ہوتا تھا اور تمام کھڈیاں چھت پر لگے شافٹوں سے پٹّوں کے ذریعے جڑی ہوتی تھیں؛ عمارت اُسی مرکزی طاقت کے گرد بنائی گئی تھی۔ بجلی کا اصل تحفہ یہ تھا کہ ہر کھڈی کو اپنی چھوٹی موٹر مل جائے۔ یہ بات دیکھنے اور کارخانے کی ساخت نئے سرے سے کھڑی کرنے میں ایک پوری نسل لگ گئی۔
یعنی پیداواریت ٹیکنالوجی سے نہیں، ازسرِنو تنظیم سے آئی۔
اب اِسے METR کے نتیجے کے پہلو میں رکھ کر دیکھیے۔ ڈویلپر نیا اوزار پرانے طریقۂ کار کے اندر رکھ دیتا ہے اور خود کو تیز محسوس کرتا ہے، جبکہ اعداد اِس کے بالکل الٹ کہہ رہے ہیں۔ بجلی کی موٹر کو پرانے شافٹ اور پٹّے کے ڈھانچے سے جوڑنے والے کارخانے پر بھی ٹھیک یہی گزری تھی۔
اِس سے جو خاکہ بنتا ہے وہ یہ ہے: انقلاب ٹیکنالوجی میں نہیں، تنظیم میں ہوتا ہے۔ اور تنظیم ٹیکنالوجی کے مقابلے میں کہیں زیادہ سست رفتاری سے بدلتی ہے۔
کولنگرج کا تذبذب: دیر ہونے سے پہلے تعریف کرنا ہوگی
معاملے کا تیسرا پہلو سیاست کا ہے۔
ڈیوڈ کولنگرج نے 1980 میں ایک تذبذب بیان کیا، اور یہ بیان اُس دن سے آج تک ٹیکنالوجی کی پالیسی کا سب سے دیانت دار جملہ رہا ہے۔
کسی ٹیکنالوجی کے ابتدائی مرحلے میں اُسے ڈھالنا آسان ہوتا ہے، مگر آپ اُس کے اثرات نہیں جانتے۔ جب اثرات سامنے آتے ہیں تو آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ہو کیا رہا ہے، لیکن تب تک ٹیکنالوجی اتنی جم چکی ہوتی ہے کہ اُسے بدلنا مہنگا، مشکل اور سست ہو جاتا ہے۔
کولنگرج کا تذبذب یوں ہے: جب تبدیلی آسان ہو تو ضرورت کا اندازہ نہیں ہوتا؛ جب ضرورت واضح ہو جائے تو تبدیلی مہنگی ہو چکی ہوتی ہے۔
یہ تذبذب مصنوعی ذہانت کی بحث کے دونوں فریقوں کو بیک وقت سمجھا دیتا ہے۔
ایک طرف کہتی ہے “ابھی ہمیں معلوم نہیں، جلدبازی میں ضابطے نہ بنائیں” — اور یہ درست کہہ رہے ہیں؛ معلومات ادھوری ہے۔ دوسری طرف کہتی ہے “وقت ہاتھ سے نکلنے سے پہلے مداخلت کریں”۔ یہ بھی درست کہہ رہے ہیں؛ کیونکہ کھڑکی بند ہو رہی ہے۔ دونوں حق پر ہیں، اور عین اِسی وجہ سے بحث سلجھتی نہیں۔
کولنگرج کی اپنی تجویز عاجزانہ تھی: جدت کو چھوٹے قدموں میں آگے بڑھانا، ایسے ڈیزائن سے بچنا جن سے واپسی ممکن نہ ہو، اور ایسے نظام بنانا جن میں غلطی کر کے اُسے سدھارا جا سکے۔
آج کی زبان میں کہیں تو پوچھنے والا سوال یہ نہیں کہ “مصنوعی ذہانت اچھی ہے یا بری”۔ پوچھنے والا سوال یہ ہے: مصنوعی ذہانت کو بےحد و حساب بڑھانے کا فیصلہ کیا ہم بعد میں واپس لے سکیں گے؟
انقلاب کے اندر کھڑا انسان
پیمائش اور سیاست کی اِن دونوں تہوں کے نیچے کچھ اور ہو رہا ہے، بہت زیادہ خاموشی سے۔
اعداد سنجیدہ ہیں۔ RAND کے ایک سروے کے مطابق امریکہ کے نوجوانوں اور کم عمر بالغوں میں سے تقریباً ہر آٹھواں فرد — یعنی لگ بھگ 5.4 ملین لوگ — اداس، بےچین یا بوجھل محسوس کرتے وقت کسی چیٹ بوٹ سے رجوع کر چکا ہے۔ بعد میں ہونے والے سروے میں یہ تناسب بڑھ کر ہر پانچواں فرد، یعنی 8.2 ملین ہو گیا۔ اِن میں سے دو تہائی نے کسی کو نہیں بتایا کہ وہ ایسا کرتے ہیں۔
اِسے “لوگ ٹیکنالوجی کے دھوکے میں آ رہے ہیں” کہہ دینا آسان بھی ہے اور غلط بھی۔ درست تعبیر یہ ہے: مصنوعی قربت ایک خلا بھر رہی ہے، اور وہ خلا مصنوعی ذہانت نے پیدا نہیں کیا۔ انسانی سہارا مہنگا بھی ہو گیا ہے اور دور بھی۔
پھر بھی ایک کمی باقی ہے، اور یہ کمی ہمدردی کی نقل والی نہیں۔
کسی معالج سے بات کرتے ہوئے جو چیز ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ سامنے والا آپ سے متاثر ہوتا ہے۔ جو وہ سنتا ہے، وہ اُسے بدل دیتا ہے۔ آپ کی خاموشی اُس سے کچھ کہتی ہے۔ ماڈل سنتا ہے، محفوظ کرتا ہے، جواب بناتا ہے؛ مگر جس چیز کا وہ گواہ بنا، اُس سے بدلتا نہیں۔ خاموشی اُس کے لیے کوئی اطلاع نہیں۔
فرق یہیں ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ماڈل کافی اچھا نہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ اُس کا اچھا ہونا اصل معاملے سے تعلق ہی نہیں رکھتا۔
مارٹن بوبر کی تقسیم اِسی کا کلاسیکی نام ہے۔ “میں اور یہ” کے رشتے میں سامنے والا ایک شے ہے؛ استعمال ہوتا ہے، ناپا جاتا ہے۔ “میں اور تُو” کے رشتے میں ایک ملاقات ہوتی ہے۔ بوبر کی کہی ہوئی مشکل بات یہ ہے: دو صوتی لہریں بالکل ایک جیسی ہوں تب بھی ایک ملاقات ہے اور دوسری نہیں۔ فرق نہ کر پانا اِس کا ثبوت نہیں کہ فرق ہے ہی نہیں۔
انقلابوں کے اعداد و شمار آسانی سے رکھے جاتے ہیں۔ جو کھو جاتا ہے، اُس کا شمار نہیں رکھا جا سکتا۔
وعدہ ہر بار فرصت کا تھا
تھیسالونیکا کے انتی پاتروس نے تقریباً بارہ عیسوی میں پن چکی پر ایک قطعہ لکھا اور چکی کا پاٹ گھمانے والی عورتوں کو مخاطب کیا: اب سو جاؤ، تمہارے بازو اور کندھے آرام کر سکتے ہیں۔ کام پانی نے سنبھال لیا۔ خودکاری کا پہلا وعدہ منافع نہیں، نیند تھا۔
تھامس کارلائل نے 1829 کی تحریر Signs of the Times میں صنعتی انقلاب پر تنقید کرتے ہوئے اصل خطرہ کاموں کے مشینی ہو جانے میں نہیں دیکھا۔ اُس نے خطرہ اِس میں دیکھا کہ مشینوں کی چال انسانی ذہن کے اندر تک اتر جائے۔
ایک صدی بعد اقبال نے مغربی صنعتی تہذیب پر اپنی تنقید میں یہی نکتہ اور سخت لہجے میں اٹھایا۔ اُن کے نزدیک مشین کا اصل نقصان صرف مزدور کی روزی نہیں تھا؛ نقصان یہ تھا کہ انسان کا باطن خود ایک پرزے میں ڈھلتا چلا جائے۔ شکایت رفتار سے نہیں تھی، رفتار کے تابع ہو جانے سے تھی۔
24 اپریل 1812 کو لنکاشائر کے قصبے ویسٹ ہاؤٹن میں ایک بُنائی کے کارخانے کو آگ لگانے والے ہجوم کے سب سے آگے دو بہنیں کھڑی تھیں۔ میری مولینو اُنیس برس کی تھی اور لِڈیا پندرہ کی۔ عدالتی کاغذات بتاتے ہیں کہ دونوں کوئلے کے کنڈوں سے کھڑکیاں توڑ رہی تھیں اور مردوں کو اکسا رہی تھیں؛ عمارت اپنے اندر رکھی کھڈیوں سمیت جل گئی۔ وجہ ٹیکنالوجی کا خوف نہیں تھا؛ روزی کا ہاتھ سے نکل جانا تھا۔ دونوں بہنیں مقدمے سے بری ہو گئیں۔
اُنہی کارخانوں کا سستا کپڑا کچھ ہی دہائیوں میں برصغیر کی منڈیوں تک پہنچا اور ڈھاکہ سے لے کر چھوٹے قصبوں تک ہاتھ کے جولاہوں کا پیشہ بٹھا دیا۔ وہاں کھڈیاں جلانے والا کوئی گروہ نہیں بنا، مگر نقصان کی نوعیت وہی رہی: ہنر اپنی جگہ قائم تھا، اُس کی قیمت ختم ہو گئی۔
1911 میں فریڈرک ونسلو ٹیلر نے سائنسی انتظام کے اصول کے ذریعے انسانی محنت کو ایک ایسے عمل میں بدل دیا جسے ناپا اور بہتر بنایا جا سکے۔
اِن سب کو ساتھ رکھ کر دیکھیں تو ایک نقش ابھرتا ہے۔ وعدہ ہر بار فرصت کا تھا۔ اور بچایا ہوا وقت ہر بار کسی نئے کام، کسی نئی پیمائش، کسی نئی مشینیت میں بہہ گیا۔
مصنوعی ذہانت کا موجودہ انقلاب اِس چکر سے باہر نہیں۔ یہ ہمیں شہری وظیفہ دلوانے نہیں جا رہا، یہ بالکل واضح ہے۔ ہم مختلف انداز میں اور زیادہ کام کریں گے، یا مصنوعی ذہانت کے ساتھ کہیں زیادہ پیداوار دینے والے انداز میں کام کریں گے۔
تو صحت مند تعریف کیسی ہوتی ہے
میں یہ تحریر کسی پیش گوئی پر ختم نہیں کروں گا، کیونکہ پیش گوئی خود اِس کہانی کا ایک کردار ہے۔ اِس کے بجائے تین ایسے پیمانے چھوڑ رہا ہوں جو انقلاب کے اندر کھڑے رہ کر بھی کام آ سکیں۔
انقلاب کو ٹیکنالوجی میں نہیں، تنظیم میں تلاش کریں۔ نیا اوزار پرانے نظام کے اندر رکھ دیا جائے تو کچھ نہیں بدلتا، بس سب خود کو زیادہ مصروف محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اگر جاننا ہے کہ تبدیلی کہاں ہو رہی ہے تو اوزار کو نہیں، کام کی تقسیم کو دیکھیے۔
اپنے احساس پر بھروسہ نہ کریں، ناپیں۔ METR کا نتیجہ اِسی کے لیے موجود ہے۔ لوگ سست ہوتے ہوئے بھی خود کو تیز محسوس کر سکتے ہیں۔ یہ حماقت نہیں؛ یہ صرف اتنا ہے کہ نئے اوزار سے ملنے والی روانی کا احساس اور پیمائش دو الگ چیزیں ہیں۔ انقلاب کے بارے میں سب سے پُریقین لہجے میں کہا گیا جملہ عموماً وہی ہوتا ہے جسے سب سے کم ناپا گیا ہو، یا جس کی پیمائش کی ہی نہ گئی ہو۔
مصنوعی ذہانت سے متعلق اپنے فیصلوں کی واپسی کے امکان کو جانچیں۔ کولنگرج کا تذبذب حل نہیں ہوتا، مگر سنبھالا جا سکتا ہے۔ “یہ اچھا ہے یا برا” والا سوال ہمیں برسوں سے کہیں نہیں لے جا رہا۔ “کیا ہم اِسے بعد میں واپس لے سکیں گے، اور غلطی کا پتا کتنی جلدی چلے گا” — یہ ایسا سوال ہے جس کا جواب موجود ہے۔
تھیمِسٹوکلیس اِس لیے نہیں جیتا کہ اُس نے پیش گوئی کو اپنے حق میں موڑ لیا، بلکہ اِس لیے کہ اُس نے اُسے درست پڑھا۔ فرق یہ تھا: اُس نے ہاتھ میں موجود جملے کو نہیں، ہاتھ میں موجود اصل وسیلے کو دیکھا۔ ایتھنز کی باڑ کمزور تھی، اُس کا بحری بیڑا مضبوط تھا۔
آج ہمارے پاس جملے تیار ہیں: تباہی، نجات، چھلانگ، خطرہ۔ سب کان کو درست لگتے ہیں اور کوئی بھی اکیلے کوئی سمت نہیں دیتا۔
پوچھنے والا سوال یہ ہونا چاہیے: ہمارے ہاتھ میں دراصل ہے کیا، اور بحیثیت انسان ہم کیا کھونے کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔
اِس تحریر کو لکھتے ہوئے میں نے یہی سوال مصنوعی ذہانت سے بھی پوچھا، اور وہاں سے بھی کوئی مکمل جواب نہیں آیا۔ آنا بھی نہیں چاہیے تھا، کیونکہ اِس سوال کا جواب انسان کو خود تلاش کرنا ہے۔
متعلقہ کتابیں

اندر سے پہلی تنبیہ
The Human Use of Human Beings
Norbert Wiener
سائبرنیٹکس کے بانی نے انقلاب کے عین بیچ میں بیٹھ کر یہ نام رکھنے کی کوشش کی کہ مشینیں انسان کو کہاں لیے جا رہی ہیں۔ یہ تحریر جو سوال پوچھتی ہے، وہی سوال 1950 میں پوچھنے والے آدمی کے اپنے جملے۔
مزید پڑھیں
کولنگرج، آج کے دن
The Coming Wave
Mustafa Suleyman
کسی ٹیکنالوجی کو بنتے وقت روکا جائے یا اُس وقت جب پانی سر سے گزر چکا ہو — سلیمان اِسی تذبذب کو گھیراؤ کے مسئلے کے طور پر نئے سرے سے کھڑا کرتے ہیں۔ تحریر کے ضابطہ سازی والے حصے کا عصری جواب۔
مزید پڑھیں
اُلجھے ہوئے ذہنوں کے لیے
How to Think About AI: A Guide for the Perplexed
Richard Susskind
سسکائنڈ عین وہی سوال اٹھاتے ہیں کہ صحت مند تعریف دکھتی کیسی ہے، اور مصنوعی ذہانت کو نہ بڑھا چڑھا کر نہ گھٹا کر سوچنے کے راستے دکھاتے ہیں۔ تحریر کے آخری حصے کی عملی توسیع۔
مزید پڑھیں
پیش گوئی کی عاجزی
The Sun, The Genome, and The Internet
Freeman Dyson
ڈائسن تین تکنیکی لہروں کو ساتھ رکھ کر پوچھتے ہیں کہ کس نے دراصل کیا بدلا، اور دکھاتے ہیں کہ پیش گوئیاں کتنی بار نشانہ چوک جاتی ہیں۔ ڈائنمو کے تضاد کا ایک تاریخی ہم زاد۔
مزید پڑھیںبطور ایمیزون ایسوسی ایٹ، اہل خریداریوں سے آمدنی حاصل کرتا ہوں۔
© 2026 eastwestmindset — جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ اس سائٹ کی تحریروں کے استعمال کے لیے اجازت درکار ہے۔