مشرق × مغرب

دیوانے سے دو سوال: خدا ملا یا دوا لی؟

11 جولائی، 2026·7 منٹ کا مطالعہ

اٹھارویں صدی میں لندن کا بیتھلم ہسپتال — جسے عوام “بیڈلم” کہتے تھے — ہر سال تقریباً چھیانوے ہزار لوگوں کی سیر گاہ بنا رہتا تھا۔ مقصد علاج نہیں تھا۔ لوگ ایک پنی دے کر اندر جاتے، زنجیروں میں جکڑے بیماروں کے درمیان گھومتے، اور ان کی حرکات کو شام کی تفریح سمجھ کر دیکھتے۔

اسی صدی میں، کسی دوسری سرزمین پر، ایک صوفی خانقاہ میں وہ آدمی جو دنیاوی حواس کھو بیٹھا تھا، عقیدت سے دیکھا جاتا۔ اس کی باتوں میں الہی اشارہ ڈھونڈا جاتا۔ ایک ہی کیفیت۔ دو بالکل مختلف ردعمل۔

جنون ہر چیز کو ایک سوال میں سمیٹ لیتا ہے: عقل کی حد کہاں ختم ہوتی ہے، انسان کہاں شروع ہوتا ہے؟ تصوف اور یورپی روشن خیالی ٹھیک اسی سوال پر آمنے سامنے کھڑے ہیں۔

صحرا میں شعر پڑھنے والا

عربی میں “مجنوں” کی جڑ دہشت ناک ہے: “جِن نے جو اسے پکڑ لیا ہو”۔ صوفی روایت نے یہ لفظ اپنے ہاتھ میں لیا اور اسے کچھ اور ہی بنا دیا۔ مجنوں اب کسی بیماری کا نام نہ رہا — الہی عشق کا نام بن گیا۔

سب سے مشہور کہانی لیلیٰ اور مجنوں کی ہے۔ مجنوں صحرا میں بھٹکتا ہے، بکھرے بال، مسلسل شعر کہتا ہے۔ صوفی اسے کسی ادنیٰ محبت کا شکار نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک مجنوں اس روح کی علامت ہے جو خدا پر دیوانی ہو گئی ہو۔

یہ کہانی ایک اور طرح سے بھی پڑھی جاتی ہے۔ مجنوں دراصل قیس نامی ایک نوجوان ہے۔ لیلیٰ سے اس کی محبت نے اسے دنیا کی نظر میں “پاگل” بنا دیا۔ مگر صوفی شاعر — نظامی سے فیضی تک — اس کہانی کو محض عشقیہ المیہ نہ رہنے دیا، بلکہ اسے استعارے میں بدل دیا۔ ان کے ہاتھوں لیلیٰ کوئی عورت نہیں، الہی حسن کا پرتو ہے۔ “جنون” یہاں بیماری کی تشخیص نہیں — سب سے اونچے عشق کی قیمت ہے۔ جسے معاشرہ “پاگل” کہتا ہے، اس نے دراصل سب سے گہری چیز دیکھ لی ہے۔

یہ نکتہ محض ادبی معاملہ نہ رہا۔ حلاج منصور (۸۵۸–۹۲۲) نے ایک دن “انا الحق” کہا — “میں ہی حق ہوں”۔ یہ جملہ دور کے عالموں اور حکمرانوں کو ہلا گیا؛ اس کی قیمت پھانسی تھی۔ مگر صوفی روایت نے انہیں نہ دیوانہ مانا، نہ کافر۔ ان کے نزدیک حلاج نے “فنا” کی منزل پائی تھی — وہ کیفیت جہاں ذات خدا میں ضم ہو جاتی ہے۔ باہر سے جو دیوانگی نظر آتی تھی، اندر سے وہ عین حقیقت تھی۔

تصوف کی اصل جرأت یہاں ہے: جنون کو “نہ سمجھا جانے والا” نہیں، “زیادہ سمجھ جانے والا” پڑھنا۔ اس روایت کا یہ رویہ سادہ جذباتیت نہیں۔ صوفی سلسلہ مجذوب اور حقیقتاً بیمار انسان میں فرق کرنے کی باریک سوجھ رکھتا تھا۔ مسئلہ ہر دیوانگی کو مقدس بنانا نہیں تھا — بلکہ یہ تسلیم کرنا تھا کہ کچھ کیفیتیں عقل کی ترازو پر نہیں تولی جا سکتیں۔

غالب نے شاید اسی سچائی کو چھوا جب لکھا: ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔ خواہش اور عقل میں یہ کشمکش جنون کے مفہوم کی جڑ میں ہے۔

عقل کی فتح اور لوہے کے دروازے

سترہویں صدی کے یورپ میں کچھ اور ہوا: دیوانوں کو بند کر دیا گیا۔ فرانسیسی مفکر میشل فوکو نے اسے “عظیم قید” کا نام دیا۔ فرانس میں ہوپیتال جنرال کھلا، انگلستان میں بیڈلم۔ مگر یہ محض دماغی ہسپتال نہ تھے۔ بھکاری، طوائفیں اور دیوانے — سب ایک ہی دیوار کے پیچھے ٹھونس دیے گئے۔

بیڈلم کی کہانی یہ منطق صاف دکھاتی ہے۔ زائرین کے لیے دروازہ ۱۶۱۰ کے لگ بھگ ہی کھل گیا تھا۔ لارڈ پرسی نے اس سال دس شلنگ ادا کر کے وہاں کے مکینوں کو دیکھا۔ رفتہ رفتہ یہ آمدنی کا ذریعہ بن گیا۔ ایک پنی کے عوض کوئی بھی اندر جا سکتا تھا۔ یہ سلسلہ ۱۷۷۰ میں جا کر بند ہوا۔

اصل مسئلہ ظلم نہیں، اس کے نیچے دبی دنیا بینی تھی۔ روشن خیالی کا دور ترتیب، درجہ بندی اور پیداواریت کا دور تھا۔ جو کام نہ کر سکے، جو عقل نہ چلا سکے، جو معاشرے کے کسی کام نہ آ سکے — وہ اس تصویر میں فٹ نہ بیٹھتا تھا۔ “عقل سے باہر” کو غائب کرنا ضروری تھا، دیواروں کے پیچھے رکھنا لازمی۔ فوکو کا زور بھی یہی تھا: بیڈلم محض بیماروں کی نمائندگی نہیں کرتا، بلکہ ایک معاشرے کی اپنے سیاہ چہرے سے فرار کی علامت ہے۔ عقل کی پرستش کرنے والے دور نے بے عقلی کو جرم سمجھا۔

فرق کی جڑ جغرافیے میں نہیں — “انسان کیا ہے؟” کے جواب میں ہے۔ تصوف میں ذاتی عقل ایک پردہ ہے — خدا تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ، جسے عبور کرنا ہے۔ روشن خیالی میں عقل ہی تعریف ہے، ہی فضیلت۔ دیکارت کا وہ مشہور جملہ یاد کریں: “میں سوچتا ہوں، پس میں ہوں۔” یہ جملہ انسان کو عقل کی بنیاد پر کھڑا کرتا ہے۔ ایک روایت عقل سے پرے ایک حقیقت دیکھتی ہے؛ دوسری عقل کو حقیقت کی زمین سمجھتی ہے۔

اقبال نے اس کشمکش کو الگ زاویے سے دیکھا۔ ان کے نزدیک عقل کار آمد مشعل ہے، مگر عشق وہ آگ ہے جو راستہ خود بناتی ہے۔ یورپی روشن خیالی نے مشعل کو سب کچھ سمجھا — اور اس میں جو نہ سمایا، اسے قید کر لیا۔

دونوں نقطہ نظر کو ساتھ رکھیں تو یہ سوال اٹھتا ہے: اگر دونوں ایک ہی انسان کو دیکھ کر اتنی مختلف چیزیں دیکھ سکتے ہیں، تو “نارمل” کتنا ہمارا اپنا ہے اور کتنا اس نقشے کی کھینچی ہوئی سرحد جس میں ہم نے آنکھ کھولی؟ وہی مجنوں جو صحرا میں بھٹکتا ہے، اگر لندن میں پیدا ہوتا — شاید ایک پنی کے بدلے دیکھا جاتا۔

دونوں نظریوں کی سچائی

تصوف کی روشنی اس کی دیانتداری میں چھپی ہے۔ کچھ چیزیں عقل سے نہیں سمجھی جاتیں — یہ تسلیم کرنا ہی اس روایت کی طاقت ہے۔ ضبط اور منطق دنیا کی مکمل تصویر نہیں دیتے۔ جدید نفسیات آج کچھ صوفیانہ تجربات کو پیتھالوجی نہیں، بلکہ شعور کی مختلف کیفیت مان کر بحث کر رہی ہے۔ تصوف نے یہ صدیوں پہلے سمجھ لیا تھا۔

روشن خیالی کی روشنی احساسِ ذمہ داری میں ہے۔ جنون کو منظم طریقے سے سمجھنا — یہ کیا ہے، کیوں ہوتا ہے، کیسے ٹھیک ہوتا ہے — جدید اعصابیات اور نفسیات کی بنیاد بنا۔ فوکو کی تنقید اس نظام کا تاریک چہرہ دکھاتی ہے اور درست دکھاتی ہے۔ مگر اسی عقلی تجسس نے وقت کے ساتھ حقیقی علاج بھی ممکن بنایا۔ آج کسی شدید بحران میں مبتلا انسان کا ہاتھ تھامنے والی دوائیں، علاج اور تشخیصیں — اسی سرد لگنے والے تجسس کی دور کی اولادیں ہیں۔

دونوں روایتیں دراصل ایک ہی انسان کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں، مگر الٹے راستوں سے۔ ایک اسے “معنی کی تقدس” میں محفوظ رکھتی ہے، دوسری “شفا کے امکان” میں۔ ایک کی شفقت عزت سے گزرتی ہے، دوسری کی مداخلت سے۔ شاید سب سے پختہ رویہ یہی ہے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے کا دشمن نہ مانیں — بلکہ دو ہاتھوں کی طرح سوچیں جو ایک دوسرے کی کمی پوری کرتے ہیں۔ ایک معنی بچاتا ہے، دوسرا تکلیف کم کرتا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے ہاتھ لگی ایک کتاب میں یہ جملہ ملا: خیالات قابو میں نہیں ہوتے؛ انہیں روکنے کی کوشش بے معنی ہے۔ اور اس سے بھی اہم یہ کہ خیالات ہمارے کردار سے تعلق نہیں رکھتے۔ ہمارا کردار زندگی میں ہمارے انتخابات سے بنتا ہے — ذہن میں اچانک آنے والے خیالات سے نہیں۔ پہلی بار پڑھا تو کچھ عجیب لگا۔ پھر سمجھ آیا: کسی کے ذہن میں کیا گزر رہا ہے یہ دیکھ کر اسے پہچاننا، شاید ہمیشہ اسی کی کہانی نہیں — پہچاننے والے کی کہانی بھی ہوتی ہے۔ جیسے کوئی خیال اچانک آئے: نہ تم نے بلایا، نہ وہ تمہاری نمائندگی کرتا ہے۔

ایک ثقافت دیوانے سے پوچھتی ہے: “خدا ملا؟” دوسری پوچھتی ہے: “دوا لی؟” دونوں ایک طرح سے درست ہیں۔ اصل بات یہ ہے: ہم کون سا سوال پوچھتے ہیں، یہ ہمارے بارے میں بتاتا ہے۔ کیونکہ کسی انسان کو ہم کیسے دیکھتے ہیں، اکثر یہ اس کی نہیں — ہماری اپنی کہانی ہوتی ہے۔

S.K.C.، 2 جولائی 2026 کو ویانا میں لکھا گیا۔

پسند آیا؟ مزید دریافت کریں

© 2026 eastwestmindset — جملہ حقوق محفوظ ہیں۔ اس سائٹ کی تحریروں کے استعمال کے لیے اجازت درکار ہے۔

ہفتہ وار نیوز لیٹر

ہمارے ہفتہ وار نیوز لیٹر کے رکن بنیں — ہر ہفتے نئے مشرق × مغرب مضامین آپ کے ای میل میں۔

ہفتے میں ایک ای میل۔ جب چاہیں رکنیت ختم کریں۔

شکریہ — آپ فہرست میں شامل ہو گئے۔

رکنیت نہ ہو سکی — دوبارہ کوشش کریں۔